بھارت کا پی ایس ایل وی سی-62 مشن ناکام، 16 سیٹلائٹس خلا میں ضائع
مسلسل ناکامیوں سے بھارت کی خلائی ساکھ پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔
انڈین اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (آئی ایس آر او) کو ایک اور بڑا دھچکا لگا ہے۔ ستیش دھون خلائی مرکز سے لانچ ہونے والا بھارتی راکٹ پی ایس ایل وی سی-62 آٹھ منٹ بعد ہی ناکام ہوگیا جس کے نتیجے میں 16 سیٹلائٹس تباہ ہوگئے۔
پی ایس ایل وی سی-62 مشن کے دوران راکٹ کے تیسرے مرحلے میں خرابی پیدا ہوئی جس سے ارتھ آبزرویشن سیٹلائٹ ای او ایس این-1 “انوِیشا” سمیت تمام 16 خلائی پے لوڈز تباہ ہوگئے ۔
یہ آٹھ ماہ میں پی ایس ایل وی کی دوسری بڑی ناکامی ہے۔ اس سے قبل مئی 2025 میں پی ایس ایل وی سی-61 مشن بھی ناکام ہوچکا ہے ۔
2021 کے بعد آئی ایس آر او کے پانچ بڑے خلائی مشن ناکام ہوچکے ہیں۔ ان میں جی ایس ایل وی ایف-15 مشن میں این وی ایس-02 سیٹلائٹ، جی ایس ایل وی ایف-10 مشن میں ای او ایس-03 سیٹلائٹ اور اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل ایس ایس ایل وی ڈی-1 مشن کی جزوی ناکامی شامل ہے۔
ماہرین کے مطابق ان پانچ ناکام مشنوں کا تخمینہ شدہ نقصان 265 سے 335 ملین ڈالر کے درمیان ہے جو کہ آئی ایس آر او کے 2025-26 کے بجٹ کا تقریباً 15 فیصد بنتا ہے۔
مسلسل ناکامیوں سے بھارت کی خلائی ساکھ پر شدید سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کمرشل کلائنٹس اسپیس ایکس جیسے متبادل فراہم کنندگان کی طرف مائل ہورہے ہیں۔
2017 میں جہاں بھارت کا عالمی اسمال سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں 35 فیصد حصہ تھا، وہیں 2024-25 میں یہ تقریباً صفر پر آگیا ہے ۔
آئی ایس آر او نے ان ناکامیوں کی تحقیقات کے لیے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دے دی ہے جس میں سابق پرنسپل سائنٹفک ایڈوائزر کے وجے رگھون اور سابق چیئرمین ایس سومناتھ شامل ہیں۔ یہ کمیٹی نظامی مسائل کا جائزہ لے گی جو ان ناکامیوں کا باعث بنے۔
واضح رہے کہ بھارت کی مجوزہ آٹھ ارب ڈالر کی اسپیس اکانومی کو ان ناکامیوں کے باعث شدید چیلنجز درپیش ہیں۔
