دریائوں ، ڈیمز اور موسم کی صورتحال کیا ہے ؟

دریائوں ، ڈیمز اور موسم کی صورتحال کیا ہے ؟ ۔ سیلاب میں گھرے متاثرین کس نوعیب کی مشکلات کا شکار ہیں؟ تفصیلات جانیے اس رپورٹ  میں۔

دریائے چناب اور جہلم

دریائے چناب کے مختلف مقامات پر پانی کی آمد میں خطرناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے۔

قادرآباد اور خانکی کے مقام پر پانی کی مقدار تیزی سے بڑھ رہی ہے ۔ چند گھنٹوں میں 3 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا امکان ہے۔

چنیوٹ برج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 14 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ماہرین نے انتہائی بلند سیلابی صورتحال قرار دیا ہے۔

دریائے جہلم میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

منگلا کے مقام پر درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

 دریائے راوی پر پانی کی سطح تشویش ناک ہو گئی ہے۔ شاہدرہ، بلوکی اور جسر کے مقامات پر پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

دریائے ستلج میں بھی پانی کی سطح بڑھتی جا رہی ہے۔ گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی کے مقامات پر پانی کا بہاؤ بلند ریکارڈ کیا گیا۔

گنڈا سنگھ والا کے مقام پر صورتحال کو ’انتہائی بلند‘ درجے میں شامل کیا گیا ہے۔

بارشوں کی اپ ڈیٹ

راولپنڈی، سرگودھا،گوجرانوالہ، لاہور،بہاولپور،بالائی اوروسطی پنجاب میں بادل برسنے کی پیش گوئی ہے۔ جس سے دریاؤں میں پانی کی آمد میں اضافہ ہوگا۔

متاثرین کی مشکلات اور ریسکیو کارروائیاں

متاثرین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ گھر،سامان پانی میں ڈوب چکے ہیں۔ ساتھ ہی بارشیں سر پر ہیں۔ زیادہ تر متاثرین کھلے آسمان تلے موجود ہیں۔

اب تک سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 15 لاکھ 16 ہزار تک پہنچ چکی۔ 4 لاکھ 81 ہزار افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

متاثرہ اضلاع میں 511 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں۔ طبی امداد کے لیے 351 میڈیکل کیمپس اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے 321 ویٹرنری کیمپس بھی فعال ہیں۔

اب تک 4 لاکھ 5 ہزار جانوروں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

 

 

دریاؤں میں پانی کی صورتحال

دریائے چناب مرالہ پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا ہے۔

خانکی ہیڈ ورکس پر 1 لاکھ 70 ہزار، قادر آباد پر 1 لاکھ 71 ہزار اور ہیڈ تریموں پر 1 لاکھ 46 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا ہے۔

راوی میں جسڑ کے مقام پر بہاؤ 78 ہزار کیوسک ہے، شاہدرہ پر 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک (جہاں کمی دیکھی جارہی ہے)۔

بلوکی پر بہاؤ 1 لاکھ 99 ہزار کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔ ہیڈ سدھنائی پر آمد 32 ہزار اور اخراج 18 ہزار کیوسک ہے۔

ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار کیوسک ہے اور مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

سلیمانکی پر یہ بہاؤ 1 لاکھ 38 ہزار کیوسک ہے۔

ڈیمز کی صورتحال

منگلا ڈیم 80 فیصد اور تربیلا ڈیم 100 فیصد بھر چکے ہیں۔دریائے ستلج پر موجود بھاکڑا ڈیم 84 فیصد، پونگ ڈیم 94 فیصد اور تھین ڈیم 92 فیصد تک بھر گئے ہیں۔

Related posts

کرن اشفاق ’صبا قمر‘ کی بڑی مداح نکلیں، پہلی ملاقات کی کہانی بیان کردی

دیکھیں: دبئی پولیس بارش کے دوران لاپرواہی سے ڈرائیونگ کرنے پر کریک ڈاؤن کرتی ہے، گاڑیاں ضبط کر لیتی ہیں۔

آبنائے ہرمز کی بندش سے یورپ کو بڑا جھٹکا؛ صرف 6 ہفتوں کا جیٹ فیول باقی