دنیا کے ہر مہذب ملک میں ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے، لائسنس کے ٹیسٹ میں نفیساتی ٹیسٹ کو کلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔
ڈرائیونگ ٹیسٹ میں *نفسیاتی ٹیسٹ* کو کلیدی حیثیت اس لیے حاصل ہوتی ہے کیونکہ گاڑی چلانا صرف جسمانی مہارت کا نہیں بلکہ *ذہنی اور جذباتی توازن* کا بھی تقاضا کرتا ہے۔
یہ ٹیسٹ عام طور پر امیدوار کی *فیصلہ سازی، ردعمل کی رفتار، توجہ، صبر، اور دباؤ میں رویّے* کو جانچنے کے لیے لیا جاتا ہے۔
حادثات کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کئی حادثات صرف فزیکل ڈرائیونگ اسکلز کی کمی سے نہیں بلکہ *ذہنی اور جذباتی کمزوری* سے بھی ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ٹیسٹ سڑکوں کو محفوظ بنانے میں مدد دیتا ہے۔
لیکن پاکستان میں معاملہ الٹ ہے، یہاں کراچی جو شہری رویوں کے حساب سے پاکستان کا سب سے بہتر شہر ہے، وہاں کی ٹرانسپورٹ ایسے قبائلی کے ہاتھوں میں دے دی گئی ہے، جن کو کسی بھی شہر میں داخلے سے پہلے نفسیاتی کونسلنگ کی بہت زیادہ ضرورت ہے، ایک ایسا گروہ جو نہ صرف قوانین کی خلاف ورزی پر فخر کرتا ہے، بلکہ انسانی جان کی ان کے نزدیک کوئی حرمت نہیں ہے، مسلسل کئی دہائیوں سے جنگ و جدل کا شکار خطے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے اس گروہ کے نزدیک انسانی جان کی حرمت ایک ڈمپر سے کہیں زیادہ ہے، جس کا اظہار ڈمپر گردی کے واقعات کے بعد دیئے جانے والے لیاقت محسود کے بیانات سے آپ بخوبی لگا سکتے ہیں۔
اگر ٹریفک کے عالمی معیارات کا جائزہ لیا جائے تو ڈمپر کے ڈرائیورز اس قابل ہی نہیں ہیں، کہ ان کو شہر میں داخل ہونے کی ہدایت مل سکے، یہ ڈرائیورز غصیلے پن کا شکار، جھگڑالو، جلد باز اور سنگ دلی کا چلتا پھرتا نمونہ ہیں، جو کسی بھی صورت ایک ایسے شہر میں داخل ہونے کے معیار پر پورا نہیں اترتے جو قبائلی سماج سے کوسوں دور ہوں، لیکن جب ان کو قانون کے دائرے میں لانے اور تربیت فراہم کرنے کی بات کی جاتی ہے تو یہ اس کو نسلی رنگ دے کر فسادات کی آگ بڑھکانے کی کوشش کرتے ہیں۔
پاکستان کا ہر ذی شعور شخص یہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ اگر ایسے لوگوں کی پشت پناہی مضبوط لوگ نہ کر رہے ہوں تو پولیس ان سے نمٹنے کے لیے کافی ہے اور ان کو بخوبی قانون کے دائرے میں لاسکتی ہے، لیکن وسیع تر ملکی مفاد میں اہم فیصلہ سازوں نے ان کو انسانی جانوں سے کھیلنے کی کھلی اجازت دی ہوئی ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ انسانوں کو جانوروں کی طرح کچلنے کے بعد بھی ان کو کوئی پشیمانی نہیں ہوتی، دھڑلے سے معاوضہ دینے کی پیش کش کرتے ہیں، جبکہ رد عمل میں اگر ان کے ڈمپر جلادیئے جائیں تو یہ فوری سڑکیں بند کردیتے ہیں، کیا کسی مہذب دنیا میں ایسا ہوسکتا ہے کہ نااہل ڈرائیورز لوگوں کو کچلنے کے بعد سڑکیں بند کرکے احتجاج کریں۔
اس حوالے سے سندھ حکومت کو سنجیدہ کوشش کرنے کی ضرورت ہے، سندھ حکومت کو چاہیئے کہ وہ مقتدرہ سے دو ٹوک بات کرے اور ان کے کراچی میں داخلے کو مناسب شہری تربیت سے مشروط کرے، ورنہ پس پردہ حقائق جو بھی ہوں، سیاسی نقصان تو صوبے کی حکمران جماعت کو ہی پہنچے گا۔
یہاں یہ بھی یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ کراچی پر لسانی جھگڑوں کی المناک چادر، جس نے سندھ کی تعمیر و ترقی کو ریورس کردیا، وہ بھی اسی طرح کے ٹریفک حادثات کے نتیجے میں چنگاری سے شعلہ جوالہ بنی تھی، اس وقت کراچی کے شہریوں میں ڈمپر گردی کو لے کر بہت اشتعال ہے، اگر اس کو کسی قاعدے قانون کا پابند نہ کیا گیا تو پھر ایسا نہ ہو کہ معاملات ہاتھوں سے نکل جائیں۔
