پوسٹ کلیرنس آڈٹ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے منی لانڈرنگ اسکینڈل کو بے نقاب کر دیا۔
آڈٹ کے مطابق سولر پینلز کی امپورٹ میں 111 ارب روپے کی منی لانڈنگ کا انکشاف ہوا ہے۔ منی لانڈنگ میں ملوث 13 کمپنیوں کے خلاف ایف آئی آر درج، فیصلے میں ملزمان پر 110 ارب روپے سے زائد کے جرمانےعائد کر دیے گئے، اس کے علاوہ مختلف بندرگاہوں پر پڑے ہوئے سولر پینلز کے 327 بلاک شدہ کنٹینرز کو بھی ضبط کر لیا گیاہے۔
فیصلے سے حکومت کو اربوں روپے کی ٹیکس وصولی کا امکان ہے، ضبط شدہ سامان کی نیلامی کے ذریعے 1.5 روپے حاصل ہونگے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان 2024 میں سب سے زیادہ سولر پینلز درآمد کرنے والا ملک بن گیا
وزیر اعظم کے دفتر کی طرف سے تشکیل دی گئی اعلیٰ اختیاراتی تحقیقاتی کمیٹی ادارہ جاتی ملی بھگت کی تحقیقات کر رہی ہے، انکوائری کا دائرہ بینکوں، SECP، کسٹمز، IRS، FMU، اور قانون نافذ کرنے والے اداروں تک پھیلا ہوا ہے۔
جرمانے کی مد میں 111 ارب روپے اور 45 ملزمان کی ناجائز آمدنی کے ذریعے حاصل کی گئی جائیدادیں اور اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔
حکام نے منی لانڈرنگ کے وسیع نیٹ ورک سے منسلک تمام قابل شناخت اثاثوں کا سراغ لگانے، منجمد کرنے اور ضبط کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔
