آئی سی سی نے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر دو پاکستانی کھلاڑیوں کو سزا سنادی
آئی سی سی کی خرم شہزاد اور محمد عباس کے خلاف کارروائی، ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا۔
آئی سی سی کی خرم شہزاد اور محمد عباس کے خلاف کارروائی، ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر سزا
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر پاکستانی کرکٹرز خرم شہزاد اور محمد عباس کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے خرم شہزاد پر میچ فیس کا 15 فیصد جرمانہ عائد کردیا جب کہ محمد عباس کو باضابطہ وارننگ جاری کردی۔
آئی سی سی کے مطابق دونوں پاکستانی کھلاڑی لیول ون ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب قرار پائے جب کہ ان کے ڈسپلنری ریکارڈ میں ایک، ایک ڈی میرٹ پوائنٹ بھی شامل کردیا گیا۔
خرم شہزاد کو ویسٹ انڈیز کے بلے باز شائی ہوپ کی وکٹ حاصل کرنے کے بعد جارحانہ انداز میں جشن منانے پر سزا دی گئی جب کہ محمد عباس کو جومیل واریکن کی وکٹ کے بعد نامناسب جشن منانے پر وارننگ جاری کی گئی۔
دونوں کھلاڑیوں نے اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے مجوزہ سزا قبول کرلی جس کے باعث میچ ریفری جیف کرو کی سفارش کردہ سزا پر باقاعدہ سماعت کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
یاد رہے کہ آئی سی سی کے ضابطۂ اخلاق کے تحت لیول ون خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ میچ فیس کا 50 فیصد جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے جب کہ 24 ماہ کے دوران چار ڈی میرٹ پوائنٹس مکمل ہونے پر کھلاڑی کو معطلی کی سزا دی جاتی ہے۔
آئی سی سی کے قوانین کے مطابق دو معطلی پوائنٹس ایک ٹیسٹ یا دو ایک روزہ یا دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی پابندی کے برابر ہوتے ہیں۔