اسلام آباد: پیٹرول پمپ مالکان نے ملک گیر ہڑتال کی کال واپس لینے کا اعلان کردیا۔
حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز کے درمیان مذاکرات کے بعد پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے اور ہڑتال کی کال مؤخر کرنے کا اعلان کردیا۔
پٹرول پمپ مالکان اور ڈیلرز ایسوسی ایشن کے رہنما ندیم عزیز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امید ہے کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن سے متعلق معاملہ آئندہ دو ہفتوں میں حل کرلیا جائے گا۔
وائس چیئرمین پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن طارق حسن کا کہنا ہے کہ بغیر کسی دباؤ کے فیصلہ واپس لیا، حکومتی یقین دہانی پر 15 دن کی مہلت دے رہے ہیں۔
اس موقع پر وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے کہا کہ حکومت عوام کو درپیش مشکلات کا بخوبی ادراک رکھتی ہے اور اسی لیے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل نکالا گیا تاکہ عوام کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت نے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی سمیت مختلف اقدامات کیے تاہم عالمی حالات کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا دباؤ برقرار ہے۔
وزیر پٹرولیم کا کہنا تھا کہ خطے میں دوبارہ جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض اوقات مجبوری کے تحت قیمتوں میں اضافہ کرنا پڑتا ہے اور اوگرا کو روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں ردوبدل کرنا پڑ رہا ہے۔
علی پرویز ملک کہتے ہیں کہ حکومت نے عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی ہے اور اس حوالے سے ایک سمری وفاقی کابینہ میں بھی پیش کی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف عوام کی مشکلات سے پوری طرح آگاہ ہیں اور ان کے اثرات کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پیٹرولیم ڈیلرز کے مارجن اور دیگر مسائل کے حل کے لیے واضح لائحہ عمل طے کیا جائے گا اور ڈیلرز کو اوگرا کے ساتھ بٹھاکر معاملات خوش اسلوبی سے حل کیے جائیں گے۔
وزیر پٹرولیم نے کہا کہ حکومت اور پیٹرولیم ڈیلرز باہمی تعاون سے آگے بڑھیں گے اور کوشش کی جائے گی کہ تمام معاملات آئندہ دو ہفتوں کے اندر بات چیت کے ذریعے حل کرلیے جائیں۔
واضح رہے کہ پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے کل صبح 6 بجے سے ملک گیر ہڑتال کا اعلان کیا تھا۔