اسلام آباد: عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز نے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھا کر بی کردی ہے جب کہ آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا گیا ہے۔
عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ مائنس بی سے بڑھا کر بی کیے جانے کو ملکی معیشت کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔
اس کے ساتھ ایجنسی نے پاکستان کا آؤٹ لک بھی مستحکم رکھا ہے جو آئندہ معاشی استحکام کے حوالے سے مثبت اشارہ سمجھا جارہا ہے۔
مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ عالمی کریڈٹ ریٹنگ میں یہ بہتری پاکستان کی معاشی بحالی پر عالمی اعتماد کا واضح اظہار ہے۔
مشیر خزانہ کے مطابق پاکستان نے تقریباً 9 سال بعد دوبارہ ’بی‘ ریٹنگ حاصل کی ہے جب کہ اس سے قبل یہ درجہ بندی 2016-17 میں حاصل ہوئی تھی۔
خرم شہزاد نے کہا کہ کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری ادارہ جاتی اور معاشی اصلاحات، مالیاتی استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے اور حکومتی اصلاحاتی اقدامات کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مستحکم آؤٹ لک اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ اصلاحات کا موجودہ سلسلہ معاشی ترقی کے تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں معاشی استحکام مضبوط ہونے اور عالمی اعتماد میں اضافے کا سہرا حکومت کی بہتر معاشی پالیسیوں اور اصلاحاتی اقدامات کو جاتا ہے۔
دوسری جانب ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ ایس اینڈ پی کی جانب سے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ میں بہتری تقریباً آٹھ سال کی بلند ترین سطح ہے جو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے اور پاکستان کی معاشی صلاحیتوں کے عالمی اعتراف کی عکاسی کرتی ہے۔
دوسری جانب وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بھی ایس اینڈ پی گلوبل ریٹنگز کی جانب سے پاکستان کی خودمختار کریڈٹ ریٹنگ بہتر کیے جانے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ملکی معیشت کے لیے اہم سنگِ میل قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کامیابی حکومت کی مؤثر معاشی پالیسیوں، مالیاتی نظم و ضبط، اصلاحاتی اقدامات اور قومی معیشت کو مستحکم بنانے کی مسلسل کوششوں پر عالمی اعتماد کا مظہر ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی ادارے کی جانب سے پاکستان کی درجہ بندی میں بہتری اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کے ٹیکس نظام میں اصلاحات، مالی خسارے میں کمی، زرمبادلہ کے ذخائر کو مضبوط بنانے اور معیشت کو استحکام دینے کے اقدامات درست سمت میں گامزن ہیں۔
شہباز شریف کہتے ہیں کہ حکومت نے مشکل مگر ناگزیر معاشی فیصلے کیے جن کے مثبت نتائج اب عالمی سطح پر بھی تسلیم کیے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا اس پیش رفت سے بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں مزید اضافہ ہوگا، نئی سرمایہ کاری کے مواقع پیدا ہوں گے اور پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار مزید تیز ہوگی۔
وزیراعظم نے اس کامیابی پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، اقتصادی ٹیم اور متعلقہ اداروں کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ حکومت معاشی اصلاحات کا سفر پوری سنجیدگی اور عزم کے ساتھ جاری رکھے گی تاکہ پاکستان کو مضبوط، مستحکم اور پائیدار اقتصادی بنیادیں فراہم کی جاسکیں۔
