مویشیوں کی تعداد میں تاریخی اضافہ، پاکستان کے ڈیری اور گوشت کے شعبے میں وسعت
گزشتہ 18 برسوں میں ملک میں مویشیوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہوگئی
پاکستان کا لائیو اسٹاک شعبہ زرعی معیشت، دیہی روزگار اور غذائی تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
پاکستان میں 18 سال کے دوران لائیو اسٹاک شعبے میں نمایاں ترقی ہوئی جس کے باعث مویشیوں کی تعداد تقریباً دوگنی ہو گئی۔ پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس نے 7ویں زرعی مردم شماری 2024 کے قومی نتائج جاری کر دیے۔
7ویں زرعی مردم شماری 2024 کے مطابق گزشتہ 18 برسوں میں ملک میں مویشیوں کی تعداد میں 89 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
مردم شماری کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں بھینسوں کی تعداد میں 75 فیصد اضافہ ہوا جبکہ بکریوں کی تعداد 78 فیصد اضافے کے بعد 9 کروڑ 58 لاکھ 30 ہزار تک پہنچ گئی۔ ڈیری گائیوں کی تعداد میں 140 فیصد جبکہ ڈیری بھینسوں میں 111 فیصد اضافہ ہوا۔
جدید ڈیجیٹل مردم شماری نظام مویشیوں کے اعداد و شمار کی بہتر نگرانی، مؤثر منصوبہ بندی اور پالیسی سازی میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔
مویشیوں کی بڑھتی تعداد پاکستان کی ڈیری، گوشت اور لائیو اسٹاک ویلیو چین میں سرمایہ کاری، پیداوار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، پاکستان کے زرعی شعبے میں ترقی، دیہی معیشت کے استحکام اور لائیو اسٹاک سیکٹر کی بڑھتی اہمیت کی عکاسی کرتی ہے۔