فیفا میں وی اے آر ٹیکنالوجی تنازعات کا مرکز بن گئی، فیصلوں پر شدید تنقید

فیفا ورلڈکپ میں ریفریز کی معاونت کے لیے استعمال ہونے والا وی اے آر ایک بار پھر شدید تنازعات کی زد میں آگیا ہے۔ مختلف ٹیموں کے کوچز اور کھلاڑیوں نے وی اے آر کے فیصلوں کو غیر یکساں قرار دیتے ہوئے اس کے استعمال پر سنجیدہ سوالات اٹھادیے ہیں۔

فیفا ورلڈکپ کے دوران وی اے آر (ویڈیو اسسٹنٹ ریفری) کے ذریعے کیے جانے والے فیصلے مسلسل تنازع کا باعث بن رہے ہیں۔ ٹورنامنٹ کے کئی اہم میچز میں وی اے آر کی مداخلت پر کوچز، کھلاڑیوں اور شائقین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مصر کے کوچ حسام حسن نے ارجنٹائن کے خلاف پری کوارٹر فائنل میں 3-2 سے شکست کے بعد وی اے آر پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ٹیم کا ایک گول منسوخ کردیا گیا جب کہ پنالٹی کے واضح مطالبے کا جائزہ بھی نہیں لیا گیا جب کہ جو کچھ ہو رہا ہے، وہ انصاف نہیں۔

دوسری جانب فیفا کے سربراہ برائے ریفریز پیئرلویجی کولینا نے وی اے آر کے فیصلوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اگر گول بننے سے پہلے کوئی فاؤل ہوا ہو تو اس کا جائزہ لینے کے لیے وقت یا فاصلے کی کوئی حد مقرر نہیں۔

پیئرلویجی کولینا کے مطابق فاؤل، فاؤل ہوتا ہے اور اگر میدان میں موجود ریفری اسے نہ دیکھ سکے تو وی اے آر مداخلت کرسکتا ہے۔

خیال رہے کہ رواں ورلڈکپ میں وی اے آر کے اختیارات مزید بڑھائے گئے ہیں جس کے باعث پہلے کے مقابلے میں زیادہ فیصلے تبدیل کیے جارہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٹورنامنٹ میں اس نظام پر تنقید بھی بڑھ گئی ہے۔

کروشیا اور پرتگال کے درمیان میچ میں بھی وی اے آر نے ایک گول آف سائیڈ قرار دے کر مسترد کردیا تھا جب کہ فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا کہ گیند راستے میں معمولی طور پر ایک کھلاڑی سے ٹکرائی تھی جس کا پتا گیند میں نصب سینسر نے لگایا۔

کروشیا کی فٹبال فیڈریشن نے اس فیصلے پر فیفا سے وضاحت طلب کرتے ہوئے اسے ٹیکنالوجی کا غلط استعمال قرار دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق اس ورلڈکپ میں وی اے آر کی مداخلت کے بعد ریڈ کارڈز کی تعداد گزشتہ دو ورلڈ کپ کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے جب کہ کئی فیصلوں نے نئی بحث کو جنم دیا ہے۔

انگلینڈ کے کوچ تھامس ٹوخل نے بھی اپنی ٹیم کے میچ کے بعد ریفریز اور وی اے آر کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

ان کا کہنا تھا کہ صرف واضح اور بڑی غلطیوں پر فیصلے تبدیل ہونے چاہیے لیکن اب ایسے معاملات میں بھی مداخلت کی جارہی ہے جہاں ریفری کا فیصلہ درست سمجھا جاسکتا تھا۔

ماہرین کے مطابق وی اے آر کا مقصد ریفریز کی واضح غلطیوں کو درست کرنا تھا تاہم اس کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ورلڈکپ میں اس نظام کی شفافیت، یکسانیت اور مؤثر انداز میں استعمال پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

Related posts

عوام پر پیٹرول بم گرادیا گیا، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ

فیفا ورلڈکپ سے واپسی پر مصری فٹبال ٹیم کا شاندار استقبال، ہزاروں شہری سڑکوں پر نکل آئے

امریکا نے ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنے پر آمادگی ظاہر کردی