شہید ایرانی سپریم لیڈر کی تدفین پر دعائے مغفرت کرانے والے 101 سالہ بزرگ کون تھے؟
انہیں ایران کے سخت گیر مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے
ایران کے سابق شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات کا اختتام 101 سالہ بزرگ آیت اللہ حسین نوری ہمدانی کی دعا کے ساتھ ہوا۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق مشہد میں جاری چھ روزہ جنازہ سفر کے آخری مرحلے میں لاکھوں سوگواروں نے شرکت کی۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق 101 سالہ بزرگ عالم دین آیت اللہ حسین نوری ہمدانی سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین سے قبل نماز جنازہ اور خصوصی دعا کی۔
آیت اللہ حسین نوری ہمدانی 1925 میں پیدا ہوئے تھے اور انہیں ایران کے سخت گیر مذہبی رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کے موقع پر مشہد کی سڑکوں پر ہزاروں افراد موجود تھے جہاں ان کی چھ روزہ آخری رسومات کا اختتامی مرحلہ جاری رہا۔
سابق ایرانی شہید سپریم لیڈر کی میت کو آخری رسومات کے دوران ایران کے مختلف مقامات پر لے جایا گیا جبکہ یہ سفر پڑوسی ملک عراق میں موجود اہل تشیع کے دو مقدس ترین مقامات سے بھی گزرا۔
چھ روز تک جاری رہنے والے اس جنازہ سفر کے بعد مشہد میں تدفین کی تقریب منعقد کی گئی جس میں بڑی تعداد میں شہری اور مذہبی شخصیات شریک تھیں۔
