امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے جہاں دونوں ممالک کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران نے امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ امریکا نے بھی ایرانی تنصیبات پر بڑے پیمانے پر کارروائیوں کی تصدیق کی ہے۔ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اپنے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات اور تدفین کے مراحل مکمل کر رہا ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان نازک جنگ بندی ایک بار پھر متاثر ہو گئی ہے دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ رات دوسری مرتبہ حملوں کا تبادلہ ہوا جبکہ ایران نے آج بھی امریکی اہداف پر نئے حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب امریکا نے ایران پر الزام عائد کیا کہ اس نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں۔
امریکی فوج کے مطابق بدھ کی رات ایران کے تقریباً 90 اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اس سے ایک رات قبل بھی 80 سے زائد مقامات پر حملے کیے گئے تھے۔
ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے آج ملک کے جنوبی حصے میں واقع بوشہر جوہری تنصیب کے قریب حملہ کیا تاہم امریکی فوج نے اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
برطانوی نشریاتی ادارے کی جانب سے تصدیق شدہ تصاویر میں جنوبی ایران کے ایک بڑے بندرگاہی علاقے کے کنٹرول ٹاور کو نقصان پہنچنے کے شواہد سامنے آئے ہیں جبکہ شمالی ایران میں ایک ریلوے پل کو بھی نقصان پہنچنے کی تصاویر کی تصدیق کی گئی ہے۔
دوسری جانب اردن نے بھی اعلان کیا ہے کہ اس نے آج آٹھ میزائلوں کو راستے میں ہی روک دیا۔ اردنی مسلح افواج کی جانب سے سرکاری میڈیا کو جاری بیان میں بتایا گیا کہ امریکی فوجی اڈے کی موجودگی والے ملک اردن نے میزائل حملوں کو ناکام بنایا۔
ایران کا کہنا ہے کہ اس نے رات کے وقت خلیجی ممالک کویت، قطر اور بحرین کی جانب ڈرون حملے کیے تاہم ان حملوں کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ادھر ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے انتقال پر جاری عوامی سوگ کا آخری دن بھی حملوں کے ماحول میں مکمل ہوا۔ تہران میں ان کی تدفین کے موقع پر بڑی تعداد میں افراد جمع ہوئے۔
دوسری جانب ایک امریکی دفاعی عہدیدار نے خبر رساں ادارے کو بتایا کہ ایران کی جانب سے داغے گئے درجنوں میزائلوں اور ڈرونز سے کوئی بڑا نقصان نہیں ہوا اور نہ ہی کسی امریکی اہلکار کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔
نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی حملوں میں استعمال کیے گئے ہتھیار یا تو راستے میں روک دیے گئے یا پھر وہ بڑے نقصان کا باعث نہیں بن سکے۔ ان کے مطابق امریکی افواج کو کسی جانی نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔