بجٹ 2026-27؛ برآمدات اور ترسیلات زر بڑھانے کا فیصلہ، بجٹ دستاویز سامنے آگئیں
کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب 60 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔
اسلام آباد: آئندہ مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3.6 ارب ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کیا ہے جب کہ برآمدات اور ترسیلات زر بڑھانے کا منصوبہ ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 3 ارب 60 کروڑ ڈالر تک محدود رکھنے کا ہدف مقرر کردیا ہے جب کہ برآمدات اور بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر میں اضافے کے ذریعے بیرونی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کی حکمت عملی تیار کرلی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے نئے مالی سال میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کے 0.7 فیصد تک محدود رکھنے کا ہدف رکھا ہے۔
دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ اشیاء کی برآمدات کو موجودہ سطح 30.3 ارب ڈالر سے بڑھا کر 32.9 ارب ڈالر تک لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے جب کہ خدمات کی برآمدات کے لیے 11.3 ارب ڈالر کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
مجموعی برآمدات کو 44.1 ارب ڈالر تک پہنچانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور بیرونی کھاتوں کی صورتحال کو مزید مستحکم بنایا جاسکے۔
دوسری جانب آئندہ مالی سال کے دوران اشیاء کی درآمدات 70 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے جب کہ خدمات کی درآمدات 13.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اس طرح مجموعی درآمدات کا حجم 83.8 ارب ڈالر تک جانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلات زر 42.4 ارب ڈالر تک بڑھانے کا ہدف بھی شامل کیا گیا ہے۔ ترسیلات زر میں ایک ارب ڈالر سے زائد اضافے کی توقع کی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے برآمدات اور ترسیلات زر میں اضافے کے ذریعے بیرونی کھاتوں پر دباؤ کم کرنے کی حکمت عملی اپنائی ہے جب کہ آئندہ مالی سال میں بیرونی شعبے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے مختلف نئے اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
