دنیا کا سب سے بڑا اجتماع، 17 لاکھ سے زائد مسلمان حج میں شریک، سعودی حکام کے اعدادوشمار جاری
حج انتظامات میں حصہ لینے والے کارکنوں کی تعداد بھی 4 لاکھ 41 ہزار سے تجاوز کر گئی
عرفات میں دنیا بھر سے آنے والے لاکھوں فرزندانِ اسلام کی موجودگی نے حج 2026 کو ایک بار پھر تاریخ کے بڑے اجتماعات میں شامل کر دیا۔ سعودی حکام کے مطابق اس سال 17 لاکھ 7 ہزار سے زائد افراد فریضۂ حج ادا کر رہے ہیں، جو گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق رواں سال حج میں شرکت کرنے والوں کی تعداد میں تقریباً 34 ہزار کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جسے جدید انتظامات، بہتر سفری سہولیات اور ڈیجیٹل سسٹمز کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ بیرونِ ملک سے آنے والے عازمین کی تعداد 15 لاکھ سے تجاوز کر گئی، جن میں اکثریت فضائی سفر کے ذریعے سعودی عرب پہنچی۔ زمینی اور بحری راستوں سے آنے والے زائرین کی تعداد بھی ہزاروں میں رہی۔
سعودی انتظامیہ نے اس بار حج آپریشن کو مزید مؤثر بنانے کے لیے جدید ہجوم مینجمنٹ، ڈیجیٹل سروسز اور سیکیورٹی اداروں کے درمیان مربوط نظام پر خصوصی توجہ دی، جس کے باعث حج مقامات پر نقل و حرکت نسبتاً منظم دکھائی دی۔
دوسری جانب مکہ روٹ انیشیٹو سے فائدہ اٹھانے والے حاجیوں کی تعداد میں بھی بڑا اضافہ سامنے آیا۔ اس سہولت کے ذریعے عازمین اپنے ممالک میں ہی امیگریشن اور کسٹمز مراحل مکمل کرکے براہِ راست اپنی رہائش گاہوں تک پہنچ جاتے ہیں، جس سے سعودی ایئرپورٹس پر انتظار کا دورانیہ کم ہوا۔
حج انتظامات میں حصہ لینے والے کارکنوں کی تعداد بھی 4 لاکھ 41 ہزار سے تجاوز کر گئی جبکہ رضاکاروں کی تعداد میں گزشتہ برس کے مقابلے میں کمی ریکارڈ کی گئی۔
سعودی ادارۂ شماریات کے مطابق تمام اعداد و شمار وزارت داخلہ کے تعاون سے جدید شماریاتی نظام کے تحت مرتب کیے گئے ہیں تاکہ معلومات کی درستگی اور شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔