ڈرون حملے کا خوف، صدر اور وزیراعظم زیر زمین چلے گئے

ڈرون حملے کا خوف، صدر اور وزیراعظم زیر زمین چلے گئے

فضائی آپریشن معطل جبکہ ٹرین اور سڑکوں کی آمدورفت بھی کچھ دیر کے لیے روک دی گئی

یورپ کے ملک لتھوانیا کے دارالحکومت ویلنیئس میں ڈرون سے متعلق سیکیورٹی الرٹ کے بعد اعلیٰ سیاسی قیادت کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا جس سے شہر میں کچھ دیر کے لیے معمولات زندگی معطل ہو گئے۔

حکام کے مطابق صدر گیتاناس ناؤسیڈا اور وزیراعظم انگا رُگینیینے کو ہنگامی سیکیورٹی پروٹوکول کے تحت شیلٹرز میں منتقل کیا گیا جبکہ شہریوں کو بھی عارضی طور پر محفوظ مقامات پر رہنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

الرٹ کے بعد ویلنیئس میں فضائی آپریشن معطل جبکہ ٹرین اور سڑکوں کی آمدورفت بھی کچھ دیر کے لیے روک دی گئی۔ بعد ازاں صورتحال معمول پر آ گئی تاہم ڈرون کے اصل ماخذ کی فوری طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

لتھوانیائی دفاعی وزارت نے شہریوں کے لیے ایمرجنسی پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ فوری طور پر محفوظ جگہ پر منتقل ہوں اور مزید ہدایات کا انتظار کریں۔

قومی کرائسز مینجمنٹ سینٹر کے مطابق ابتدائی طور پر ڈرون کو ہمسایہ ملک بیلاروس کی سمت سے آتے ہوئے دیکھا گیا تاہم اس کی حتمی شناخت اور مقصد واضح نہیں ہو سکا۔

بعد ازاں فوجی حکام نے بتایا کہ نیٹو کی فضائیہ کو الرٹ کے بعد متحرک کیا گیا تاہم مشتبہ ڈرون کو ٹریک کر کے مکمل طور پر نشانہ بنانے میں کامیابی نہیں ہو سکی۔

اسی دوران پارلیمنٹ سیماس پارلیمنٹ میں بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور ارکان کو احتیاطی طور پر زیرِ زمین شیلٹرز میں منتقل کیا گیا۔

یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب بالٹک خطے میں نیٹو ممالک نیٹو کے رکن ممالک جیسے ایسٹونیا، لٹویا اور لتھوانیا میں ڈرون دراندازی کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جس نے خطے میں سیکیورٹی خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے۔

Related posts

سیف بن زاید نے ایمریٹس سکلز کے 17ویں قومی مقابلے میں شرکت کی۔

متحدہ عرب امارات اور یورپی پارلیمنٹ نے تعاون پر تبادلہ خیال کیا۔

پاکستانی کرکٹر محمد عامر کو برطانوی شہریت مل گئی