لگتا ہے جنگ کا نیا دور قریب ہے، ایرانی اسپیکر کا دھماکہ خیز دعویٰ
ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی مخفی اور اعلانیہ سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ جنگ کا ایک نیا مرحلہ شروع ہونے والا ہے۔
ان کے مطابق ایرانی مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران اپنی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ کیا ہے اور کسی بھی جارحیت کا جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
قالیباف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ اگر دوبارہ جارحیت کی گئی تو ایسا جواب دیا جائے گا جو مخالف فریق کے لیے باعث شرمندگی ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین اس وقت شدید اسٹریٹجک دباؤ اور اندرونی چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے امریکا کی داخلی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ معاشی مسائل، مہنگائی، بینک سود اور توانائی کی قیمتیں امریکی معاشرے کے لیے بڑا دباؤ بن چکی ہیں جبکہ بعض سیاسی حلقوں میں بیرونی جنگوں پر بھی اختلاف بڑھ رہا ہے
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ ایران اپنی پالیسی میں ہر صورتحال کے لیے تیار ہے جہاں ضرورت ہو مذاکرات اور جہاں لازم ہو دفاع۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے قومی اہداف کے دفاع میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا اور مذاکراتی میز پر بھی اسی طاقت اور اعتماد کے ساتھ بیٹھے گا جس کا اظہار میدانِ جنگ میں کیا جاتا ہے۔
عراقچی کے مطابق حالیہ 40 روزہ کشیدگی کے دوران نہ تو وزارتِ خارجہ سے کوئی اہلکار مستعفی ہوا اور نہ ہی کسی سفارتکار نے ملک چھوڑا جو اس بات کی علامت ہے کہ تمام ادارے ایک مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالفین کی کوشش تھی کہ ایرانی سفارتی نظام میں دراڑیں ڈالی جائیں تاہم سفارتخانوں نے میڈیا اور سفارتی محاذ پر فعال کردار ادا کرتے ہوئے مکمل ہم آہنگی برقرار رکھی۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ کچھ لوگ اپنا خون دیتے ہیں کچھ نام اور کچھ عزت مگر سب ایک ہی مقصد کے لیے کھڑے ہیں۔ ان کے مطابق مسلح افواج ایران کا فخر ہیں اور سفارتکاری و دفاع ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ تکمیل ہیں۔