مودی سرکار اور بھارتی کٹھ پتلی عدالتیں مسلمانوں کی تاریخ اور شناخت مٹانے میں مصروف

مودی سرکار اور بھارتی کٹھ پتلی عدالتیں مسلمانوں کی تاریخ اور شناخت مٹانے میں مصروف

بھارتی عدالت نے تاریخی مسجد کو مندر قرار دے کر ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی

مودی سرکار کی ہندوتوا پالیسیوں کے تحت بھارت مسلمانوں کے منظم استحصال کی ایک ریاست بن چکا ہے۔

معروف عالمی جریدے الجزیرہ کے مطابق بھارتی کٹھ پتلی عدالت نے مدھیہ پردیش میں موجود تاریخی کمال مولا مسجد کو مندر قرار دے دیا، عدالت نے تاریخی مسجد کو مندر قرار دے کر ہندوؤں کو وہاں عبادت کی اجازت دے دی۔

الجزیرہ نے بتایا کہ بھارت میں نام نہاد مذہبی ہم آہنگی اور سیکولرازم ختم ہوچکی اب وہاں صرف مودی کا ہندوتوا چلتا ہے۔ مسجد کے مؤذن رفیق نے کہا کہ برطانوی دور سے پہلے سے ان کا خاندان اس مسجد کی ذمہ داری سنبھال رہا ہے۔

عالمی جریدے کے مطابق تاریخی مسجد میں ہندو انتہا پسند ہندوتوا کے جھنڈے لہرا کررقص اور پوجا کررہے ہیں۔

معروف امریکی تاریخ دان آڈری ٹروشکے نے کہا کہ بھارت میں مساجد کو نشانہ بنانے کا موجودہ رجحان ہندو قوم پرستی میں جڑ پکڑے ہوئے اسلاموفوبیا کا حصہ ہے۔

 ماہرین کے مطابق ہندو انتہا پسند کٹھ پتلی مودی سرکار کی طرح  بھارتی عدالتیں بھی نام نہاد سیکولر انڈیا کو پس پشت ڈال کر ہندوتوا نظام کو پھیلانے میں مصروفِ عمل ہے۔

Related posts

ایران سے نمٹنے کے لیے تمام آپشنز موجود ہیں، نائب ترجمان وائٹ ہاؤس

JOOD مضبوط Q1 2026 کے نتائج کے ساتھ دبئی کے پائیدار دینے والے ماحولیاتی نظام کو تقویت دیتا ہے

این سی ای ایم اے، ایم او ایچ اے پی نے ایبولا کی پیش رفت کی نگرانی کے لیے متحدہ عرب امارات کی صحت کی نگرانی، رسپانس سسٹم کی تیاری کی تصدیق کی