وفاق نے صوبائی حکام سے ٹیکس آمدن بڑھانے کامطالبہ کردیا
نئی زرعی آمدن ٹیکس شرحیں آئندہ مالی سال کی زرعی آمدن پر لاگو ہوں گی
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے چاروں صوبوں سے مجموعی طور پر 400 ارب روپے اضافی ریونیو جمع کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جبکہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجٹ اہداف اور میکرو اکنامک فریم ورک پر بھی اتفاق کر لیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق نے صوبائی حکام پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس آمدن اور نان ٹیکس ریونیو میں نمایاں اضافہ کریں تاکہ مطلوبہ مالیاتی سرپلس حاصل کیا جا سکے اس سلسلے میں زرعی آمدن پر انکم ٹیکس، پراپرٹی ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی میں اضافے کی تجاویز زیر غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے دوران اضافی آمدن اکٹھی کرنے کے اہداف دیے گئے ہیں۔
نئی زرعی آمدن ٹیکس شرحیں آئندہ مالی سال کی زرعی آمدن پر لاگو ہوں گی جبکہ نئے بجٹ کے تحت زرعی آمدن پر انکم ٹیکس وصولی میں کسی قسم کی چھوٹ نہیں دی جائے گی۔
وزارت خزانہ نے نئے مالی سال کے لیے مجموعی قومی پیداوار کی شرح نمو 4.1 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے جبکہ اوسط مہنگائی کی شرح 8.6 فیصد رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے باعث آئندہ مالی سال کی ابتدائی دو سہ ماہیوں میں مہنگائی کا دباؤ برقرار رہ سکتا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان مہنگائی پر قابو پانے کے لیے آئندہ مالی سال میں مزید سخت مانیٹری پالیسی اختیار کر سکتا ہے۔
معاشی تخمینوں کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران پاکستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ تقریباً 4 ارب ڈالر رہنے کی توقع ہے، جبکہ درآمدات کا حجم 70 ارب ڈالر اور ترسیلات زر 42 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق صوبوں نے آئندہ مالی سال میں مالیاتی سرپلس برقرار رکھنے کی یقین دہانی بھی کرا دی ہے۔