عالمی جریدے یورپین ٹائمز کے طالبان رجیم کے معاشرے پر کنٹرول اور سماجی تشکیل نو کے بارے میں تفصیلی رپورٹ جاری کردی۔
یورپین ٹائمز کے مطابق طالبان کا نظام حکومت معاشرے کی کڑی نگرانی اور بنیادی آزادیوں پر سخت پابندی پر مبنی ہے۔طالبان رجیم افغان معاشرے کو سخت دباؤ اور مذہبی کنٹرول کا نشانہ بنا رہی ہے طالبان کا طرز حکمرانی علاقائی استحکام، شدت پسندی اور افغان آبادی کی نقل مکانی کا باعث بن سکتا ہے۔
یورپین ٹائمز کا کہنا ہے کہ افغان لڑکیوں کی چھٹی کلاس تک تعلیم کی پابندی کو پانچ سال مکمل ہو چکے ہیں خواتین نقل و حرکت، روزگار اور علاج سے مکمل محروم ہیں خواتین محرم کے بغیر علاج کی سہولیات بھی حاصل نہیں کر سکتیں خواتین محرم کے بغیر اقوام متحدہ کے امدادی سینٹر میں بھی داخل نہیں ہو سکتیں۔
یورپین ٹائمز کے مطابق طالبان کے قانون کے مطابق بیوی شوہر کا گھر بغیر اجازت چھوڑنے پر سخت سزا کی حقدار قرار،طالبان کے قانون کے مطابق مخصوص فرقے کے علاوہ تمام مسالک کفر قرار دیے گئے ہیں ۔ طالبان لیڈرز کے بارے میں تنقید قابل سزا جرم قرار دی گئی ہے۔جرم ثابت ہونے پر مذہبی علماء کو صرف تنبیہ جبکہ عام عوام کے لیے سخت سزا کا قانون لاگو ہوگا۔
یورپین ٹائمز کا کہنا ہے کہ پچھلے دور حکومت کے اہلکاروں کے خلاف انتقامی کاروائیاں مسلسل جاری ہے جبکہ افغانستان کا موجودہ حالات علاقائی اور عالمی امن کے مستقبل کے لیے سخت خطرہ ہے۔