پاکستان کی درخواست پر ’پروجیکٹ فریڈم‘ روکا گیا، مارکو روبیو
پاکستان کا مؤقف تھا ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ روکنے سے ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے
واشنگٹن: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے واضح کیا ہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ پاکستان کی درخواست پر مؤخر کیا گیا تھا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹ کے مطابق مارکو روبیو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان کا مؤقف تھا کہ آبنائے ہرمز میں ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ روکنے سے ایران کے ساتھ معاہدے کی راہ ہموار ہوسکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سفارت کاری کو موقع دینے کے لیے ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ معطل کیا گیا جبکہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مذاکرات اور سفارتی حل کو ترجیح دیتے ہیں۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے بحری جہازوں کو نکالنے کے لیے جاری ”پروجیکٹ فریڈم“ کو عارضی طور پر روکنے کا اعلان کیا تھا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا تھا کہ یہ فیصلہ پاکستان سمیت مختلف ممالک کی درخواستوں اور ایران کے خلاف حالیہ کارروائیوں میں کامیابی کے بعد کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے نمائندوں کے ساتھ ایک جامع اور حتمی معاہدے کی جانب نمایاں پیش رفت ہوچکی ہے جس کے پیش نظر عارضی طور پر اس منصوبے کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ اگرچہ آبنائے ہرمز میں امریکی ناکہ بندی بدستور برقرار رہے گی تاہم بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت سے متعلق ”پروجیکٹ فریڈم“ کو وقتی طور پر معطل کیا جا رہا ہے تاکہ معاہدے کی پیش رفت کا جائزہ لیا جا سکے۔