ڈھاکا ٹیسٹ، پاکستان برتری حاصل کرنے میں ناکام، بنگلا دیش کی میچ پر گرفت مظبوط
پاکستان کی پہلی اننگز تیسرے روز 386 رنز پر ختم ہوگئی
ڈھاکا ٹیسٹ میں پاکستان کی پہلی اننگز تیسرے روز 386 رنز پر ختم ہوگئی، جس کے بعد بنگلا دیش کو 27 رنز کی اہم برتری حاصل ہوگئی۔ قومی ٹیم کی جانب سے ٹیسٹ ڈیبیو کرنے والے نوجوان اوپنر اذان اویس نے یادگار سنچری اسکور کی، تاہم مڈل آرڈر کی ناکامی پاکستان پر بھاری پڑی۔
تیسرے روز پاکستان نے ایک وکٹ پر 179 رنز سے کھیل دوبارہ شروع کیا۔ امید تھی کہ قومی ٹیم بڑا مجموعہ ترتیب دے گی، مگر 210 کے اسکور پر اذان اویس کے آؤٹ ہوتے ہی بیٹنگ لائن دباؤ کا شکار ہوگئی۔ نوجوان اوپنر نے اعتماد سے بھرپور بیٹنگ کرتے ہوئے 103 رنز بنائے اور اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میں سنچری کا اعزاز حاصل کیا۔
اذان کی وکٹ گرنے کے بعد پاکستانی بیٹرز وقفے وقفے سے پویلین لوٹتے رہے۔ کپتان شان مسعود صرف 9 رنز بنا سکے جبکہ سعود شکیل کھاتہ کھولے بغیر آؤٹ ہوگئے۔ عبداللہ فضل نے ذمہ دارانہ کھیل پیش کرتے ہوئے 60 رنز اسکور کیے، لیکن ٹیم کو بڑے اسکور تک نہ لے جا سکے۔
مشکل صورتحال میں سلمان علی آغا اور محمد رضوان نے اننگز کو سہارا دیا۔ دونوں کے درمیان چھٹی وکٹ کیلئے 119 رنز کی اہم شراکت قائم ہوئی، جس نے پاکستان کو میچ میں واپس لانے کی کوشش کی۔ رضوان 59 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے جبکہ سلمان علی آغا نے 58 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی۔
بارش کے باعث کھیل کچھ دیر رکا رہا، لیکن کھیل بحال ہونے کے بعد پاکستان کی آخری وکٹیں جلد گر گئیں اور پوری ٹیم 386 رنز پر ڈھیر ہوگئی۔
بنگلا دیش کی جانب سے مہدی حسن نے شاندار اسپن بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا اور پاکستانی بیٹنگ لائن کو شدید مشکلات سے دوچار رکھا۔
اس سے قبل میزبان ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 413 رنز بنا چکی تھی۔ بنگلا دیش کے کپتان نجم الحسن شانتو نے 101 رنز کی ذمہ دارانہ اننگز کھیلی جبکہ مومن الحق 91 اور مشفق الرحیم 71 رنز بنا کر نمایاں رہے۔ پاکستان کی جانب سے محمد عباس نے بہترین بولنگ کرتے ہوئے 5 وکٹیں حاصل کیں جبکہ شاہین شاہ آفریدی نے 3 شکار کیے۔
میچ اس وقت نہایت دلچسپ مرحلے میں داخل ہوچکا ہے اور اب نظریں اس بات پر جمی ہیں کہ بنگلا دیش اپنی برتری کتنی بڑھاتا ہے اور پاکستان کم بیک کر پاتا ہے یا نہیں۔
