تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ؛ عالمی بینک نے خبردار کردیا

تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ؛ عالمی بینک نے خبردار کردیا

عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں 16 سے 24 فیصد تک اضافے کا امکان ہے

اسلام آباد: عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی معیشت کو شدید دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے جس سے روزگار، ترقی اور مہنگائی پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ہے۔

عالمی بینک کی جانب سے جاری کردہ کموڈیٹی مارکیٹس آؤٹ لک رپورٹ 2026 کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی یا ممکنہ جنگ طویل ہوئی تو تیل کی قیمتیں 115 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں 16 سے 24 فیصد تک اضافے کا امکان ہے جس سے مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق تیل کی عالمی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح تک جا سکتی ہیں جبکہ 2026 کے لیے اوسط قیمت 86 ڈالر فی بیرل رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ توانائی اور کھاد کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

عالمی بینک نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل ترسیل کے تقریباً 35 فیصد کو متاثر کر سکتی ہے جس کے نتیجے میں ابتدائی طور پر یومیہ 10 ملین بیرل تک سپلائی میں کمی آسکتی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ مہنگائی میں اضافے کے باعث شرح سود بڑھنے اور قرضوں کے مہنگے ہونے کا خدشہ ہے جس کے سب سے زیادہ اثرات ترقی پذیر ممالک اور کم آمدنی والے طبقات پر پڑیں گے۔

Related posts

پاکستانی زائرین کے لیے عراقی حکام نے سخت شرائط عائد کر دیں

نماز بھی پڑھی ہے یا نہیں؟ رجب بٹ کی زنجیر زنی پر مبنی ویڈیو پر صارفین کی تنقید

افغانستان کی سرزمین سے نکلنے والے مشہور آخری امریکی فوجی نے اچانک استعفی دے دیا