ٹرمپ ایران کی نئی تجویز سے ناخوش ہیں، امریکی عہدیدار کا دعویٰ
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اپنی ”سرخ لکیروں“ پر واضح ہے اور مذاکرات کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے طے نہیں کرے گا
امریکی عہدیداروں کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی جانب سے جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کی گئی نئی تجویز پر خوش نہیں ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ایران نے اپنی نئی تجویز میں کہا ہے کہ جوہری پروگرام سے متعلق بات چیت کو خلیجی سمندری راستوں کے تنازعات اور جنگ کے خاتمے تک مؤخر کیا جائے جبکہ واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ جوہری معاملہ مذاکرات کے آغاز ہی میں ایجنڈے کا حصہ ہونا چاہیے۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکا اپنی ”سرخ لکیروں“ پر واضح ہے اور مذاکرات کی تفصیلات میڈیا کے ذریعے طے نہیں کرے گا۔
امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ فروری سے جاری کشیدگی اور تنازع کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں بدستور جاری ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق واشنگٹن ایران کی تجویز کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے تاہم بنیادی مؤقف میں کسی بڑی نرمی کے آثار فی الحال نظر نہیں آرہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے عائد کی جانے والی شرائط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کھولنے کی شرائط قبول نہیں، بھتہ خوری کی اجازت نہیں دیں گے۔
فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مارکو روبیو نے کہا کہ جہازوں کی گزرگاہ کے لیے ایران سے اجازت لینا اور مبینہ طور پر رقوم کی ادائیگی کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس طرز عمل کو ”اقتصادی دباؤ یا بلیک میلنگ“کے مترادف سمجھتا ہے اور اسے برداشت نہیں کرے گا۔
مارکو روبیو نے مزید کہا کہ امریکا اس بات پر قائم ہے کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اگر معاہدہ نہ بھی ہو سکا تو ایران پر دباؤ برقرار رکھا جائے گا۔