امریکا کی ایران سے منسلک کرپٹو والٹس اور تیل نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد
نئی پابندیوں کو صدر ڈونلڈٖ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے
امریکی حکومت نے ایران سے منسلک کرپٹو کرنسی والٹس اور تیل کے نیٹ ورک پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں جس کے تحت ایران کی تقریباً 34 کروڑ 40 لاکھ ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی کو منجمد کر دیا گیا ہے۔
نئی پابندیوں کو صدر ڈونلڈٖ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے تہران پر دباؤ بڑھانے کی نئی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے اعلان کیا ہے کہ ایران پر مالی دباؤ برقرار رکھا جائے گا اور اس کے مالی وسائل کو محدود کرنے کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ امریکا ایران کی جانب سے بیرون ملک منتقل کی جانے والی رقوم کا سراغ لگاتا رہے گا اور حکومت سے جڑے تمام مالی ذرائع کو نشانہ بنایا جائے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران پر یہ الزام بھی عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے ٹول ٹیکس کرپٹو کرنسی کی صورت میں وصول کر رہا ہے۔ تاہم اس دعوے کی باضابطہ تصدیق نہیں ہو سکی۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی فراہمی میں خلل کے دوران ایران پر دباؤ بڑھانے کے لیے کیا گیا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے چین کی آئل ریفائنری، شپنگ کمپنیوں اور آئل ٹینکرز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں جن پر ایران کی تیل برآمدات میں مدد کا الزام تھا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وہ اس بات کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا کہ ٹیثر (Tether) سے منسلک اکاؤنٹس واقعی ایران سے وابستہ تھے یا نہیں۔
ایک امریکی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کا مرکزی بینک سرحد پار مالی لین دین میں اپنی شمولیت چھپانے کے لیے تیزی سے پیچیدہ طریقے استعمال کر رہا ہے۔ ان کے مطابق ایران ڈیجیٹل اثاثوں کا استعمال کر کے اپنی کرنسی ریال کو مستحکم رکھنے اور سخت پابندیوں کے ماحول میں بین الاقوامی تجارت جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکی محکمہ خزانہ مختلف امریکی اور غیر ملکی مالیاتی اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے، جن میں ڈیجیٹل اثاثوں کے ایکسچینجز بھی شامل ہیں، تاکہ ایسے مالی نیٹ ورکس کی نگرانی کی جا سکے۔
