بھارت کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے بہانے انڈس واٹرز ٹریٹی کی یکطرفہ معطلی بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے جس کی معاہداتی فریم ورک میں کوئی قانونی بنیاد موجود نہیں۔
پہلگام واقعے سے متعلق غیر مصدقہ دعوؤں کو بنیاد بنا کر بھارت ایک خطرناک نظریہ پیش کر رہا ہے جو معاہدوں کی کمزوری اور مشترکہ وسائل کے جبر پر مبنی استعمال کو جائز ٹھہراتا ہے۔
انڈس واٹرز ٹریٹی ایک باقاعدہ اور پابند دوطرفہ معاہدہ ہے جس میں یکطرفہ معطلی، ازسرنو تشریح یا مشروط عملدرآمد کی کوئی گنجائش موجود نہیں، لہٰذا اسے معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ قانونی طور پر ناقابلِ دفاع ہے اور بین الاقوامی اصول پیکٹا سنٹ سرواندا سے متصادم ہے۔
پہلگام واقعے کے حوالے سے الزامات کو بطور جواز پیش کرنا بین الاقوامی فورمز پر ثابت نہیں ہو سکا جس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ قانونی دلیل نہیں بلکہ ایک سیاسی بیانیہ ہے۔
سیکیورٹی تنازعات کو معاہداتی ذمہ داریوں کے ساتھ جوڑ کر بھارت نہ صرف ایک دیرینہ آبی نظام کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ایک خطرناک مثال بھی قائم کر رہا ہے جو عالمی سطح پر سرحدی معاہدوں اور قواعد پر مبنی نظام کو کمزور کر سکتی ہے۔
جوابی نکات
بھارت کی جانب سے انڈس واٹرز ٹریٹی کو معطل کرنا کوئی پالیسی تبدیلی نہیں بلکہ کھلی قانونی خلاف ورزی ہے جو بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصول پیکٹا سنٹ سرواندا کی نفی ہے۔
پانی کے معاہدے کو ہتھیار بنانا ایک خطرناک نظریاتی رجحان کی عکاسی کرتا ہے جہاں انتہاپسند سوچ قانونی ذمہ داریوں پر غالب آ جاتی ہے اور تعاون کو جبر میں بدل دیتی ہے۔
پہلگام واقعہ کو جواز کے طور پر پیش کرنا وقت کے ساتھ بے بنیاد ثابت ہو چکا ہے نہ کوئی ثبوت، نہ جوابدہی، نہ ساکھ صرف ایک سیاسی بیانیہ جو معاہدے کی خلاف ورزی کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
دہشتگردی کے الزامات کو ایک آبی معاہدے میں گھسیٹنا حکمتِ عملی نہیں بلکہ خطرناک اشتعال انگیزی ہے جو دہائیوں پر محیط تعاون کو تباہ کر کے عدم استحکام کو فروغ دیتی ہے۔
مستقل ثالثی عدالت میں کارروائیوں سے گریز بھارت کے دوہرے معیار کو ظاہر کرتا ہے جب فائدہ ہو تو بین الاقوامی قانون کو اپنانا اور جب پابندی ہو تو اسے نظرانداز کرنا جبکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندوں کے سوالات پر طویل خاموشی بھی اسی رویے کی عکاسی ہے۔
بالائی ریاست کی جانب سے پانی کو ہتھیار بنانا محض پالیسی نہیں بلکہ ”ہائیڈرو-پولیٹیکل دہشتگردی“ہے جو لاکھوں افراد کے معاشی و زرعی مفادات کو نشانہ بناتی ہے۔
یہ طرزِ عمل معاہدوں کی حرمت کو کمزور کرتا ہے اور دنیا کو یہ پیغام دیتا ہے کہ طاقت کی بنیاد پر بین الاقوامی معاہدے بے معنی بنائے جا سکتے ہیں۔
پاکستان کا مؤقف واضح ہے کہ معاہدے احسان نہیں بلکہ لازمی ذمہ داریاں ہوتے ہیں اور کوئی ریاست یکطرفہ طور پر انہیں معطل یا تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔
عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ یکطرفہ اقدامات عدم استحکام پیدا کرتے ہیں اور قواعد پر مبنی نظام سے مطابقت نہیں رکھتے۔
”خون اور پانی ایک ساتھ نہیں بہہ سکتے“ جیسا نظریہ انصاف نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال ہے جو اجتماعی سزا کو جائز ٹھہرا کر ایک امن کے معاہدے کو دباؤ کے ہتھیار میں بدل دیتا ہے۔
