میکسیکو کے تاریخی مقام پر فائرنگ؛ کینیڈین خاتون ہلاک، 13 زخمی
میکسیکن صدر نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
میکسیکو کے مشہور تاریخی مقام تیوتیہواکان کے اہرام پر ایک شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 32 سالہ کینیڈین خاتون ہلاک اور 13 افراد زخمی ہوگئے جب کہ حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کرلیا۔
میکسیکن صدر کلاڈیا شین بام نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’تیوتیہواکان میں جو ہوا اس سے ہمیں شدید صدمہ پہنچا ہے‘‘۔
مقامی پراسیکیوٹرز نے حملہ آور کی شناخت میکسیکو کے شہری جولیو سیزر جاسو رامیریز کے نام سے کی ہے جب کہ پولیس نے موقع سے ایک ہتھیار، چھری اور گولیاں برآمد کی ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے زیادہ تر فائرنگ ہوا میں کی اور وہ ایک ڈیجیٹل ٹیبلٹ لے کر چل رہا تھا۔
MORE VISUAL: Shooting at Mexico’s Pyramid of the Moon in Teotihuacán Leaves Canadian Tourist Dead, Raises World Cup Security Concerns#Pyramid #PyramidsofTeotihuacán #Canadian #gunman #openedfire #SHOOTING #killed #Mexico #Tourist pic.twitter.com/ocxt1tZKaY
— ViralVolt🟦 (@ViralVolT1) April 21, 2026
ایک برطانوی جوڑے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ اہرام کی تصویر لے رہے تھے کہ اچانک لوگ دوڑنے لگے اور زور زور سے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔
کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کینیڈین شہری کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ زخمیوں میں دو کولمبین، ایک روسی اور ایک کینیڈین شامل ہیں۔
تیوتیہواکان یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے اور میکسیکو کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔
واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب میکسیکو میں فیفا ورلڈکپ کے پہلے میچ میں صرف سات ہفتے باقی ہیں۔ میکسیکن حکومت نے عالمی ایونٹ کے دوران سیکیورٹی کے جامع انتظامات کیے ہیں تاہم سیاحتی مقام پر اس طرح کا واقعہ تشویش کا باعث ہے۔