میکسیکو کے تاریخی مقام پر فائرنگ؛ کینیڈین خاتون ہلاک، 13 زخمی

میکسیکو کے تاریخی مقام پر فائرنگ؛ کینیڈین خاتون ہلاک، 13 زخمی

میکسیکن صدر نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

میکسیکو کے مشہور تاریخی مقام تیوتیہواکان کے اہرام پر ایک شخص نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں 32 سالہ کینیڈین خاتون ہلاک اور 13 افراد زخمی ہوگئے جب کہ حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کرلیا۔

میکسیکن صدر کلاڈیا شین بام نے اس واقعے پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا ’’تیوتیہواکان میں جو ہوا اس سے ہمیں شدید صدمہ پہنچا ہے‘‘۔

مقامی پراسیکیوٹرز نے حملہ آور کی شناخت میکسیکو کے شہری جولیو سیزر جاسو رامیریز کے نام سے کی ہے جب کہ پولیس نے موقع سے ایک ہتھیار، چھری اور گولیاں برآمد کی ہیں۔

عینی شاہدین کے مطابق حملہ آور نے زیادہ تر فائرنگ ہوا میں کی اور وہ ایک ڈیجیٹل ٹیبلٹ لے کر چل رہا تھا۔

 

ایک برطانوی جوڑے نے غیر ملکی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ وہ اہرام کی تصویر لے رہے تھے کہ اچانک لوگ دوڑنے لگے اور زور زور سے چیخنے کی آوازیں آنے لگیں۔

کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے کینیڈین شہری کی ہلاکت اور ایک کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے جب کہ زخمیوں میں دو کولمبین، ایک روسی اور ایک کینیڈین شامل ہیں۔

تیوتیہواکان یونیسکو کے عالمی ورثے میں شامل ہے اور میکسیکو کے مقبول ترین سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔

واضح رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب میکسیکو میں فیفا ورلڈکپ کے پہلے میچ میں صرف سات ہفتے باقی ہیں۔ میکسیکن حکومت نے عالمی ایونٹ کے دوران سیکیورٹی کے جامع انتظامات کیے ہیں تاہم سیاحتی مقام پر اس طرح کا واقعہ تشویش کا باعث ہے۔

Related posts

حمدان بن محمد: ‘مجھے دبئی ایئرپورٹس، ایمریٹس اور فلائی دبئی کی ٹیموں پر فخر ہے’

لبنان میں مسیحی مقدس مجسمے کی بے حرمتی کرنے والے فوجیوں کو سزا

کیا ایران فیفا ورلڈکپ میں شرکت کرے گا؟