آبنائے ہرمز ہر قسم کی تجارتی بحری آمدورفت کیلئے مکمل کھول دی گئی، عباس عراقچی
ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران تمام کمرشل ویسلز کو گزرنے کی اجازت ہوگی
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ لبنان میں جاری جنگ بندی کے تناظر میں آبنائے ہرمز کو تجارتی بحری جہازوں کیلئے کھول دیا گیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے باقی ماندہ دنوں میں آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھلی رہے گی تاکہ عالمی تجارت اور بحری آمدورفت متاثر نہ ہو۔
ایرانی وزیر خارجہ کے مطابق تجارتی جہازوں کیلئے پہلے ہی مخصوص راستوں کی نشاندہی کی جا چکی ہے، جن پر عمل کرنا لازمی ہوگا۔
In line with the ceasefire in Lebanon, the passage for all commercial vessels through Strait of Hormuz is declared completely open for the remaining period of ceasefire, on the coordinated route as already announced by Ports and Maritime Organisation of the Islamic Rep. of Iran.
— Seyed Abbas Araghchi (@araghchi) April 17, 2026
ان کا کہنا تھا کہ تمام بحری جہازوں کو ایران کی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن کی جانب سے مقرر کردہ مربوط روٹس پر سفر کرنا ہوگا۔
ایرانی حکام کے مطابق جنگ بندی کی باقی مدت کے دوران تمام کمرشل ویسلز کو گزرنے کی اجازت ہوگی، تاہم یہ آمدورفت پہلے سے طے شدہ اور مربوط روٹس کے تحت ہوگی، جن کی نگرانی پورٹس اینڈ میری ٹائم آرگنائزیشن ایران کر رہی ہے۔
یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حالیہ کشیدگی کے باعث دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں سے ایک آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شدید متاثر ہوئی تھی، جس سے عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل پر بھی اثرات مرتب ہوئے۔
ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز کی بحالی عالمی منڈی کیلئے نہایت اہم ہے کیونکہ دنیا کی بڑی مقدار میں تیل اور گیس اسی راستے سے گزرتی ہے، جبکہ جنگ بندی کے بعد اس فیصلے سے وقتی استحکام آنے کی امید کی جا رہی ہے۔
تاہم تجزیہ کار یہ بھی خبردار کر رہے ہیں کہ یہ سہولت عارضی ہے اور اس کا انحصار مکمل طور پر جنگ بندی کی پابندی اور خطے میں سیکیورٹی صورتحال پر ہوگا۔