مشرقِ وسطیٰ کشیدگی کا اثر پاکستان پر، ترقیاتی بجٹ میں بڑی کٹوتی، اہم منصوبے متاثر
کٹوتیوں سے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے، ماہرین
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مالیاتی دباؤ کے پیش نظر پاکستان کی وفاقی حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں ایک بار پھر نمایاں کمی کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام پی ایس ڈی پی کو ایک ہزار ارب روپے سے کم کرتے ہوئے مزید گھٹا کر 837.16 ارب روپے کر دیا گیا ہے، جو رواں مالی سال میں دوسری بڑی کٹوتی ہے۔
اس سے قبل گزشتہ ماہ بھی ترقیاتی بجٹ کو کم کر کے 900 ارب روپے مقرر کیا گیا تھا، جبکہ اب دوسرے مرحلے میں مزید 63 ارب روپے کی کمی کی گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور مالیاتی استحکام کو برقرار رکھنے کیلئے اٹھایا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی وزارت خزانہ اور پلاننگ کمیشن آف پاکستان نے باہمی مشاورت سے یہ فیصلہ کیا، جس کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنز کے ترقیاتی فنڈز میں کٹوتی کی گئی ہے تاکہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھا جا سکے۔
نظرثانی شدہ اعداد و شمار کے مطابق اراکین پارلیمنٹ کیلئے مختص ترقیاتی بجٹ 75 ارب روپے سے کم ہو کر 63.2 ارب روپے رہ گیا ہے۔ آبی وسائل ڈویژن کیلئے 106.6 ارب روپے، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن پاکستان کیلئے 34.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح آئی ٹی سیکٹر کیلئے 18.4 ارب روپے، ریلوے ڈویژن کیلئے 18.5 ارب روپے اور وزارت صحت کیلئے 11.6 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
ضم شدہ اضلاع کیلئے 54 ارب روپے سے زائد جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 67 ارب روپے سے زیادہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ دفاعی ڈویژن کیلئے بھی 9 ارب روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل کی گئی کٹوتی کا مقصد سبسڈی کے بوجھ کو پورا کرنا تھا، جبکہ حالیہ فیصلے کا مقصد مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا اور بدلتی علاقائی صورتحال سے نمٹنا ہے۔
ماہرین کے مطابق مسلسل کٹوتیوں سے ترقیاتی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ہے، جو معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتا ہے۔
