معاشی اصلاحات پر اعتماد، فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی کو مستحکم قرار دے دیا
شرح سود کم ہو کر 10.5 فیصد رہنے کا امکان ہے
بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ ریٹنگز نے پاکستان کی معاشی صورتحال پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے ملک کی کریڈٹ ریٹنگ B- برقرار رکھی ہے اور آؤٹ لک کو مستحکم قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں مالیاتی نظم و ضبط اور معاشی استحکام کی سمت میں بہتری کے آثار دیکھے گئے ہیں، جسے مثبت پیش رفت کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ ادارے کے مطابق آئی ایم ایف کا جاری پروگرام پاکستان میں معاشی اصلاحات کے لیے ایک اہم سہارا ثابت ہو رہا ہے۔
فچ کے مطابق پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر کی آئندہ قسط آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری کے بعد ملنے کی توقع ہے، جبکہ زرمبادلہ کے ذخائر بیرونی اقتصادی جھٹکوں سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں عالمی اور علاقائی چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کی توانائی صورتحال پاکستان کے لیے ممکنہ خطرات پیدا کر سکتی ہے، تاہم مجموعی معاشی سمت میں بہتری کے آثار موجود ہیں۔
فچ نے پیش گوئی کی ہے کہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی شرح 7.9 فیصد تک جا سکتی ہے، جبکہ شرح سود کم ہو کر 10.5 فیصد رہنے کا امکان ہے، جس سے کاروباری سرگرمیوں میں بہتری متوقع ہے۔ اسی طرح معاشی شرح نمو 3.1 فیصد تک رہنے کا اندازہ لگایا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کے 5.3 فیصد کے قریب رہ سکتا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دوبارہ 1.1 فیصد تک جانے کی توقع ہے۔ بیرونی قرضوں کی ادائیگیاں 12.8 ارب ڈالر تک پہنچنے کا امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے۔