امریکا سے مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کا ردعمل سامنے آگیا
اسماعیل بقائی کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے
اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکا مذاکرات کے بعد ایرانی وزارت خارجہ کا ردوعمل سامنے آگیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ یہ مذاکراتی دورایک سال میں سب سےطویل تھا 24 گھنٹوں پرمشتمل مذاکرات میں ہم نےمختصرمگرمسلسل گفتگو کے کئی دور مکمل کئے۔
انہوں نے کہا یہ مذاکرات 40 دن کی مسلط کردہ جنگ کے بعد ہوئے اور بداعتمادی اور شکوک و شبہات کے ماحول میں انجام پائے۔ فطری بات ہے کہ ابتدا ہی سے کسی ایک نشست میں معاہدے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے تھی۔ کسی کو بھی ایسی توقع نہیں تھی۔
اسماعیل بقائی کے مطابق ان مذاکرات میں آبنائے ہرمز سمیت چند نئے موضوعات بھی شامل کیے گئے اور ہر موضوع کی اپنی پیچیدگیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان نےبہت کوششیں کیں میں وزیراعظم پاکستان، فیلڈمارشل اوروزیرخارجہ اسحاق ڈارسمیت پاکستانی حکومت اور عوام کاشکریہ اداکرتاہوں۔
ترجمان نے مزید کہا کہ میں امریکی فریق کی سفارتی کوششوں کا بھی شکریہ اداکرتاہوں۔
