واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے گا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا ہے۔
خیال رہے کہ دونوں ممالک نے یہ جنگ بندی ٹرمپ کی بدھ کی مقررہ ڈیڈ لائن ختم ہونے سے محض ایک گھنٹہ قبل کی۔
بعد ازاں تہران نے کہا کہ آبنائے ہرمز جو تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور مشرق وسطیٰ کی جنگ کے باعث ہفتوں سے تقریباً بند پڑا تھا میں محفوظ آمد و رفت کی اجازت دی جائے گی جس سے عالمی سطح پر خام تیل اور متعلقہ مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا تھا۔
ٹرمپ نے اپنے ٹروتھ سوشل پلیٹ فارم پر لکھا کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد کرے گا بہت مثبت اقدامات ہوں گے بڑی کمائی ہوگی ایران تعمیرِ نو کا عمل شروع کر سکتا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اس سے چند گھنٹے قبل کہا تھا کہ آبنائے میں محفوظ گزر ممکن ہوگا بشرطیکہ ایران کی مسلح افواج کے ساتھ ہم آہنگی اور تکنیکی حدود کو مدنظر رکھا جائے۔
یہ بھی پڑھیں: جنگ بندی کی راہ ہموار: پاکستان نے ناممکن کو ممکن کیسے بنایا، کب کیا ہوا؟
ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکہ ہر قسم کی سپلائیز لے کر وہاں موجود رہے گا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ سب کچھ ٹھیک طریقے سے ہو مجھے پورا اعتماد ہے کہ ایسا ہی ہوگا۔
تاہم اس بار امریکی صدر کا لہجہ گزشتہ ہفتے ایران کو پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے کی دھمکی سے بالکل مختلف تھا۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ جیسے ہم امریکہ میں دیکھ رہے ہیں ویسے ہی یہ مشرق وسطیٰ کا سنہری دور بن سکتا ہے۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا وہ جنگ بندی کو اپنی کامیابی قرار دے رہے ہیں تو انہوں نے معاہدے کو ایران پر فتح قرار دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ یہ مکمل اور بھرپور فتح، سو فیصد۔ اس میں کوئی شک نہیں۔
بعد میں انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ دنیا کے امن کے لیے یہ ایک بڑا دن ہے ایران یہ چاہتا ہے وہ کافی حد تک تنگ آ چکے ہیں اسی طرح باقی سب بھی۔
ٹرمپ نے کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان پیش رفت نے انہیں جنگ بندی پر آمادہ کیا۔ ان کے مطابق ایران نے 10 نکات پر مشتمل ایک تجویز پیش کی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد ہے اور انہیں توقع ہے کہ دو ہفتوں کے اندر ایک حتمی معاہدہ طے پا جائے گا۔
ٹرمپ نے بعد میں اے ایف پی کو بتایا کہ ہمارے پاس 15 نکات پر مشتمل ایک معاہدہ ہے جن میں سے زیادہ تر پر اتفاق ہو چکا ہے دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے آیا یہ مکمل ہوتا ہے یا نہیں۔