پیٹرول قیمتیں بدلتے ہی حکومت الرٹ، اچانک سخت نگرانی شروع کرنے کا فیصلہ
پیٹرول پمپس پر ڈیٹا انٹری اور اسٹاک کی شفافیت کے لیے مشترکہ ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے
ملک میں پیٹرولیم قیمتوں میں حالیہ ردوبدل کے بعد حکومت نے مارکیٹ مانیٹرنگ مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے تاکہ ذخیرہ اندوزی اور مصنوعی قلت جیسے مسائل پر قابو پایا جا سکے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے اعلیٰ سطح اجلاس میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، سپلائی اور مارکیٹ کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم سپلائی صورتحال مستحکم ہے اور موجودہ ذخائر طلب پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
حکام کے مطابق ڈیزل کے ذخائر تقریباً 25 دن جبکہ کروڈ آئل کے ذخائر 12 دن کے لیے دستیاب ہیں، جبکہ پیٹرول کی سپلائی بھی موجودہ ضروریات کو پورا کر رہی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپلائی چین میں کسی بھی قسم کی ذخیرہ اندوزی یا مصنوعی قلت کو روکنے کے لیے سخت نگرانی کی جائے گی۔ اس حوالے سے اوگرا کے ڈیجیٹل ڈیش بورڈ کے ذریعے ملک بھر میں پیٹرولیم اسٹاک اور سپلائی کی مانیٹرنگ کو مزید مؤثر بنایا جائے گا۔
بریفنگ میں انکشاف ہوا کہ 12 ہزار سے زائد پیٹرول پمپس سے ڈیٹا رپورٹنگ توقعات سے کم ہے، جس پر کمیٹی نے اوگرا کو ہدایت دی کہ بروقت اور درست ڈیٹا فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ ساتھ ہی پاکستان اسٹیٹ آئل کو اپنے ریٹیل نیٹ ورک میں ڈیٹا رپورٹنگ بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی گئی۔
مزید برآں پیٹرول پمپس پر ڈیٹا انٹری اور اسٹاک کی شفافیت کے لیے مشترکہ ٹیمیں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اجلاس میں گیس کی دستیابی اور اس کی گھریلو و پاور سیکٹر میں تقسیم کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ ایل پی جی پر بڑھتے انحصار کے پیش نظر گیس مینجمنٹ پر تفصیلی غور کیا گیا۔
وزیر خزانہ نے واضح کیا کہ مارکیٹ کا استحکام، شفافیت اور صارفین کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔
