ٹرمپ کے مینوفیکچرنگ بوم کے دعوؤں کے باوجود بیروزگاری کا رجحان برقرار
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق دسمبر میں بھی مینوفیکچرنگ شعبے میں روزگار گھٹتا رہا
واشنگٹن: امریکا میں فیکٹریوں میں کام کرنے والے مزدوروں کی تعداد میں مسلسل کمی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے امریکی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بڑے بوم کے دعوے کیے جا رہے تھے، لیکن اس کے باجود صورتحال میں کوئی بہتری نظر نہیں آرہی ہے۔
امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کے مطابق دسمبر میں بھی مینوفیکچرنگ شعبے میں روزگار گھٹتا رہا اور یہ آٹھواں مسلسل مہینہ ہے جب فیکٹری ملازمتوں میں کمی دیکھی گئی۔
تازہ اعداد و شمار کے مطابق اپریل کے بعد سے اب تک ہزاروں فیکٹری ورکرز اپنی نوکریاں کھو چکے ہیں، جس سے شعبہ مارچ 2022 کے بعد کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے۔
مزید پڑھیں: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ٹرمپ اور وزیراعظم کے درمیان تعلقات انتہائی مضبوط ہیں، امریکی سفارتکار
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ٹرمپ انتظامیہ نے درآمدی محصولات اور سخت تجارتی پالیسیوں کو امریکی صنعت کے تحفظ کا ذریعہ قرار دیا۔
تاہم ان اقدامات کے باعث لاگت میں اضافہ، طلب میں کمی اور غیر یقینی صورتحال پیدا ہوئی، جس سے کئی فیکٹریاں نئی بھرتیوں سے گریز اور موجودہ عملہ کم کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
رپورٹ کے مطابق چھوٹے اور درمیانے درجے کے مینوفیکچرنگ کاروبار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں، جہاں بعض اداروں نے اپنی افرادی قوت نمایاں حد تک کم کر دی ہے۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر امریکی معیشت میں سست روی اور عالمی تجارتی دباؤ بھی فیکٹری ملازمتوں میں کمی کی بڑی وجوہات ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو ٹرمپ کے مینوفیکچرنگ بحالی کے وعدوں پر مزید سوالات اٹھیں گے، کیونکہ زمینی حقائق اس وقت امریکی صنعت میں روزگار کے بجائے سکڑاؤ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔
