جمہوریت بھول جاؤ، فوجی حکمران کے بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی
یاد رہے کہ ابراہیم ٹراورے نے ستمبر 2022 میں اقتدار سنبھالا تھا
افریقی ملک برکینا فاسو کے فوجی حکمران ابراہیم ٹراورے نے ایک تہلکہ خیز بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کو جمہوریت کے تصور کو بھول جانا چاہیے، ان کے اس بیان پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔
سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک تفصیلی انٹرویو میں ابراہیم ٹراورے نے کہا کہ ہمیں حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا، جمہوریت ہمارے لیے نہیں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جمہوریت خونریزی کا باعث بنتی ہے اور اسے غلامی سے بھی تشبیہ دی۔
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے ٹراورے نے لیبیا کی مثال دی، جہاں ان کے مطابق بیرونی طاقتوں نے جمہوریت مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن اس کا نتیجہ بدامنی اور تباہی کی صورت میں نکلا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب چند ماہ قبل ہی ان کی حکومت نے ملک میں تمام سیاسی جماعتوں کو تحلیل کر دیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ فوجی قیادت جمہوری نظام سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے۔
یاد رہے کہ ابراہیم ٹراورے نے ستمبر 2022 میں اقتدار سنبھالا تھا، جب ایک فوجی بغاوت کے ذریعے اس وقت کے منتخب صدر کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا تھا۔
فوجی حکومت نے ابتدا میں وعدہ کیا تھا کہ وہ ملک کو دوبارہ جمہوری راستے پر لائے گی اور 2024 میں انتخابات کرائے جائیں گے تاہم بعد میں یہ مؤقف بدل دیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی انتخابات ممکن نہیں۔
واضح رہے کہ برکینا فاسو میں القاعدہ اور آئی ایس آئی ایل سے منسلک گروہوں کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث بدامنی برقرار ہے لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور حالات بدستور کشیدہ ہیں جس کے باعث فوجی حکومت کو شدید تنقید کا سامنا ہے۔