21 مئی کا دن مقبوضہ جموں وکشمیر کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اورسیاہ باب

21 مئی کا دن مقبوضہ جموں وکشمیر کی جدوجہدِ آزادی کی تاریخ کا ایک انتہائی دردناک اورسیاہ باب

سانحہ ہوال کے نتیجے میں سری نگر کی گلیاں لاشوں سے بھر گئیں، ماؤں کے سامنے ان کے جوان بیٹے  خون میں تڑپتے رہے

21  مئی 1990 کادن مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی اورکشمیریوں کے ناقابلِ شکست جذبہ آزادی کی یاد دلاتا ہے۔

21 مئی 1990 کومقبوضہ کشمیرکی ایک مضبوط مذہبی و سیاسی آوازمیرواعظ محمد فاروق کوان کے گھر میں شہید کردیا گیا۔

میرواعظ محمد فاروق کشمیریوں کے حقِ آزادی اور بھارتی ناجائز قبضے کے خلاف ایک توانا آواز تھے بھارتی ظلم صرف ایک رہنما کے قتل تک محدود نہ رہا، بلکہ میرواعظ محمد فاروق کے جنازے میں شریک  ہزاروں کشمیریوں کو بھی  خون میں نہلادیاگیا۔

سانحہ ہوال کے نتیجے میں سری نگر کی گلیاں لاشوں سے بھر گئیں، ماؤں کے سامنے ان کے جوان بیٹے  خون میں تڑپتے رہے۔

یہ ہولناک قتلِ عام اس سچائی کا منہ بولتا ثبوت تھا کہ قابض بھارت صرف زندہ کشمیریوں سے ہی نہیں بلکہ ان کے جنازوں سے بھی خوفزدہ  ہے۔

 21 مئی 2002ء کو بھارت نے پھر اپنی بریریت دکھائی،کشمیریوں کی ایک اورتوانا  آواز خواجہ عبدالغنی لون کوسری نگرمیں مزارِ شہداء کے مقام پرشہید کردیا۔

حریت قیادت کو نشانہ بنانا واضح ثبوت ہے کہ غاصب بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق، حریت اور پاکستان سے وابستگی کی  بات کرنے والی ہر آواز کو دبانا چاہتا ہے۔

*یہ محض چند واقعات نہیں بلکہ حقِ خودارادیت کی خاطر کشمیری عوام کے خون سے لکھی گئی لازوال داستان اور ان کی قربانیوں کا استعارہ ہیں۔

Related posts

قومی مرکز برائے موسمیات کا کہنا ہے کہ جولائی کا درجہ حرارت پورے متحدہ عرب امارات میں اوسط سے بڑھ جائے گا۔

دبئی کا اپ گریڈڈ Nol سسٹم 72% مکمل ہے کیونکہ RTA کا مستقبل ڈیجیٹل ادائیگی کا ہدف ہے۔

متحدہ عرب امارات کے واٹر ایوارڈ میں عالمی دلچسپی بڑھ رہی ہے کیونکہ AI مرکز کا مرحلہ لیتا ہے۔