نیا سپریم لیڈر زندہ ہے یا مردہ، کچھ خبر نہیں، ایران ڈیل کے لیے منتیں کر رہا ہے، ٹرمپ
امریکی اقدامات کی وجہ سے ایران کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کا خطرہ ختم ہو گیا ہے، بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی قیادت ناقص اور غیر مستحکم ہے، اور نئے ایرانی سپریم لیڈر کے بارے میں کچھ معلوم نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایک ایسا ملک ہے جس کی قیادت کوئی سنبھالنا نہیں چاہتا، ایران کے نئے سپریم لیڈر مرچکے ہیں یابری حالت میں ہیں، ان سے متعلق کچھ پتا نہیں چل رہا، ایران اب ڈیل کرنے کے لیے منتیں کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے پاکستان اور بھارت کے تعلقات کے حوالے سے بھی بات کی، انھوں نے کہا کہ میں نے اب تک 8 جنگیں روکی ہیں، لیکن مجھے نوبل انعام نہیں ملا، لیکن اس کی کوئی پرواہ نہیں۔ انھوں نے کہا کہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران صرف ایک ہفتے میں 9 جنگی جہاز مار گرائے گئے۔
ٹرمپ نے وزیراعظم شہباز شریف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ بہترین شخصیت ہیں۔ اگر جنگ جاری رہتی تو وہ 250 فیصد ٹیرف لگانے کے لیے تیار تھے۔
مزید پڑھیں: ٹرمپ کا ایران کی توانائی تنصیبات پر حملے مزید 10 روز تک روکنے کا اعلان
امریکی صدر نے ایران کے میزائل حملوں اور مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکام نے مذاکرات کے حوالے سے جھوٹ بولا، سعودی عرب، بحرین، کویت اور قطر پر میزائل حملے کیے، اور کوئی توقع نہیں کر سکتا تھا کہ سعودی عرب پر بھی حملے ہوں گے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکی فوج نے ایران کی عسکری صلاحیت کو تباہ کر دیا ہے اور اب ایران مشرق وسطیٰ میں کسی کو ہراساں نہیں کر سکتا۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ ایران اب کبھی بحری جنگی جہاز نہیں بنا سکے گا اور نیوکلیئر معاہدے کو ختم نہ کرنے کی صورت میں ان کے پاس ایٹم بم ہوتا جو اسرائیل پر استعمال ہو سکتا تھا۔
صدر ٹرمپ نے ایران کے ایٹمی پروگرام پر بھی زور دیا، کہا کہ مڈنائٹ ہیمر آپریشن کے باوجود ایران نے ایٹمی صلاحیت پر کام جاری رکھا، لیکن امریکی اقدامات کی وجہ سے ایران کی نیوکلیئر بلیک میلنگ کا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج رات مشرق وسطیٰ کو خطرے سے دور کرنے کے قریب ہیں اور ہم نے اپنے اتحادیوں کے تحفظ کے لیے تاریخی اقدام کیے ہیں۔
ٹرمپ کے بیانات میں ایران کے خطرے کو ختم کرنے، نیوکلیئر صلاحیت کو محدود کرنے اور مشرق وسطیٰ میں امن قائم کرنے کے عزم کا واضح تاثر دیا گیا، جبکہ پاکستان اور بھارت کے ساتھ تعلقات کو بھی مضبوط اور تعمیری قرار دیا گیا۔
