یونان: کشتی حادثے میں 22 تارکین وطن جاں بحق، 2 انسانی اسمگلرز گرفتار
کشتی میں سوار افراد کی تعداد اس کی گنجائش سے کہیں زیادہ تھی، جو خراب موسم کے باعث الٹ گئی
یونان کے سب سے بڑے جزیرہ کریٹ کے جنوبی ساحل پر ایک ہولناک سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 22 تارکین وطن جاں بحق ہوگئے ہیں۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق لیبیا سے یورپ پہنچنے کی کوشش کرنے والی کشتی یونان کے سب سے بڑے جزیرہ کریٹ کے جنوبی ساحل کے قریب ڈوب گئی اور 22 تارکین وطن جان کی بازی ہار گئے۔ یونانی حکام نے واقعے میں ملوث دو انسانی اسمگلرز کو گرفتار کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کشتی میں سوار افراد کی تعداد اس کی گنجائش سے کہیں زیادہ تھی، اور خراب موسم کے باعث کشتی الٹ گئی۔ یونانی کوسٹ گارڈ نے فوری طور پر ریسکیو آپریشن شروع کیا، جس میں متعدد لاشیں سمندر سے نکالی گئیں جبکہ کئی افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
حکام کے مطابق کشتی لیبیا سے ایک خطرناک راستے کے ذریعے روانہ ہوئی تھی، جو حالیہ مہینوں میں انسانی اسمگلنگ کا بڑا مرکز بن چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بحیرہ روم کا روٹ اب یورپ میں داخلے کے لیے سب سے زیادہ جان لیوا سمجھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: اٹلی کے قریب تارکین وطن کی کشتی سے 91 افراد کو بچا لیا گیا، دو کی لاشیں برآمد
یونانی سیکیورٹی اداروں نے کارروائی کرتے ہوئے دو مبینہ اسمگلرز کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے کشتی کو غیر محفوظ حالت میں روانہ کیا اور انسانی جانوں کو خطرے میں ڈالا۔ ملزمان کے خلاف قتلِ خطا، کشتی حادثے کا سبب بننے اور غیر قانونی امیگریشن کے سنگین مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔
ڈوب کر جان بحق ہونے والے تارکین وطن کی شہریت ابھی تک کنفرم نہیں ہوئی ہے، تاہم حکام کے مطابق یہ پہلا واقعہ نہیں، اس سے قبل بھی اسی علاقے میں متعدد کشتی حادثات پیش آ چکے ہیں جن میں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
حکام نے اس سانحے کو انسانی اسمگلنگ کے خطرناک نیٹ ورکس کی ایک اور خوفناک مثال قرار دیا اور کہا کہ بہتر مستقبل کی تلاش میں نکلنے والے معصوم افراد اکثر موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ یونانی حکام لاپتہ افراد کی تلاش کے لیے آپریشن جاری رکھنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
یہ واقعہ ایک بار پھر عالمی برادری کے لیے انتباہ ہے کہ انسانی اسمگلنگ اور غیر محفوظ سفر کے خطرات کتنے مہلک ثابت ہو سکتے ہیں۔
