ایران جنگ میں امریکی طیارہ بردار جہاز واپس کیوں چلا گیا؟

ایران جنگ میں امریکی طیارہ بردار جہاز واپس کیوں چلا گیا؟

ایسے وقت میں اس نوعیت کی پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکی بحریہ کا جدید طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ مشن سے علیحدہ ہو کر واپس بندرگاہ کی جانب روانہ ہو گیا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق جہاز کو حالیہ دنوں میں پیش آنے والے ایک تکنیکی واقعے کے بعد واپس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ جہاز کے اندرونی حصے، خاص طور پر لانڈری سیکشن میں اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس پر قابو پانے میں ایک دن سے زائد وقت لگا۔

حکام کے مطابق آگ پر قابو پانے کے دوران دو اہلکار زخمی ہوئے، تاہم جہاز کے انجن اور اہم دفاعی نظام محفوظ رہے۔

اس واقعے کے باعث سیکڑوں اہلکاروں کو عارضی طور پر اپنی رہائش گاہیں چھوڑنا پڑیں، جبکہ جہاز پر موجود کل عملہ ہزاروں کی تعداد میں ہے۔

دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایسے وقت میں اس نوعیت کی پیش رفت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، جب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان تناؤ اپنے عروج پر ہے اور ہر عسکری نقل و حرکت کو باریک بینی سے دیکھا جا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس واپسی سے نہ صرف امریکی بحری حکمت عملی پر سوالات اٹھ سکتے ہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن پر بھی اثر پڑنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related posts

پاکستان میں خام تیل کی پیداوار 26 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

معروف شاعر سیف الدین سیف کو مداحوں سے بچھڑے 33 برس بیت گئے

امریکی حملوں کے بعد ایران کا خطے میں فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ