مشرق وسطیٰ جنگ، ساڑھے 4 کروڑ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام

مشرق وسطیٰ جنگ، ساڑھے 4 کروڑ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں، ورلڈ فوڈ پروگرام

جنگ کو بڑے پیمانے پر غذائی بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام  نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ عالمی سطح پر غذائی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، اور جون تک مزید 4 کروڑ 50 لاکھ افراد شدید بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔

ادارے کے مطابق خوراک، تیل اور شپنگ اخراجات میں مسلسل اضافے کے باعث دنیا بھر میں غذائی عدم تحفظ بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں شدید بھوک کا شکار افراد کی تعداد 31 کروڑ 90 لاکھ سے تجاوز کر سکتی ہے۔

رپورٹ میں خاص طور پر ایران کے خلاف جاری جنگ کو بڑے پیمانے پر غذائی بحران کی ایک بڑی وجہ قرار دیا گیا ہے۔ ورلڈ فوڈ پروگرام کا کہنا ہے کہ اگر یہ تنازع جاری رہا تو کروڑوں افراد خوراک کی شدید قلت کا سامنا کریں گے۔

ادارے نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ فوری اقدامات کرے تاکہ بڑھتے ہوئے بحران پر قابو پایا جا سکے، بصورت دیگر دنیا کو ایک بڑے انسانی المیے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات کا موسم: تیز ہواؤں اور خلیج عرب کے کھردرے ہونے کے ساتھ دھول کا الرٹ جاری کیا گیا۔

خلیفہ فنڈ نے سائبرسیکیوریٹی اسٹارٹ اپس کو سپورٹ کرنے، تیز کرنے کے لیے خصوصی قومی پروگرام شروع کیا۔

MoFA نے متحدہ عرب امارات کے شہریوں کے لیے لبنانی جمہوریہ کے لیے سفر دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا۔