ایران-امریکا جنگ میں ہتھیاروں کے ذخائر فیصلہ کن بننے لگے، میزائل اور ڈرون حملوں میں نمایاں کمی
اگر جنگ طویل ہوئی تو اس سطح کی فوجی کارروائیوں کو برقرار رکھنا دونوں فریقوں کیلئے مشکل ہو سکتا ہےدا
ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی میں ہتھیاروں کے ذخائر اور ان کی تیزی سے ہوتی کھپت جنگ کے مستقبل پر اثر انداز ہونے لگی ہے، کیونکہ دونوں فریق اپنی توقع سے زیادہ تیزی سے اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے کی خبر کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا کے پاس اہم ہتھیاروں کی تقریباً لامحدود سپلائی موجود ہے، جبکہ ایران کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس دشمن کے مقابلے میں طویل عرصے تک مزاحمت کی صلاحیت موجود ہے۔
تل ابیب میں قائم انسٹی ٹیوٹ فار نیشنل سیکیورٹی اسٹڈیز کے اندازوں کے مطابق امریکا اور اسرائیل اب تک 2 ہزار سے زائد فضائی حملے کر چکے ہیں جن میں مختلف اقسام کے میزائل اور بم استعمال کیے گئے۔
ادھر ایران بھی اب تک 571 میزائل اور 1,391 ڈرون داغ چکا ہے، تاہم ان میں سے بڑی تعداد کو دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا۔
ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوئی تو اس سطح کی فوجی کارروائیوں کو برقرار رکھنا دونوں فریقوں کیلئے مشکل ہو سکتا ہے۔
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ جنگ کے آغاز کے مقابلے میں ایران کی جانب سے داغے جانے والے میزائلوں کی تعداد میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ابتدائی دنوں میں سینکڑوں میزائل داغے گئے تھے جبکہ اب یہ تعداد درجنوں تک محدود ہو گئی ہے۔
امریکی کمانڈر جنرل ڈین کین کے مطابق جنگ کے پہلے دن کے مقابلے میں ایران کے بیلسٹک میزائل حملوں میں 86 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق صرف گزشتہ 24 گھنٹوں میں بھی حملوں میں 23 فیصد کمی آئی ہے۔
اسی طرح ایران کے ڈرون حملوں میں بھی نمایاں کمی دیکھی گئی ہے۔ اندازوں کے مطابق ایران جنگ سے پہلے دسیوں ہزار شاہد خودکش ڈرون تیار کر چکا تھا، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ تنازع کے دوران ڈرون حملوں میں 73 فیصد کمی ہو چکی ہے۔
دفاعی ماہرین کے مطابق اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ طویل جنگ کی صورت میں ہتھیاروں کے ذخائر اور ان کی پیداوار کی رفتار اس تنازع کے اہم ترین عوامل بن سکتے ہیں۔
