ایران کی قیادت کے معاملے میں ٹرمپ کا نیا مطالبہ، خامنہ ای کے بیٹے کو مسترد کر دیا
ایران کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو ملک میں استحکام اور ہم آہنگی پیدا کرے، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں مستقبل کی قیادت کے حوالے سے غیر معمولی بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کے عمل میں امریکا کو بھی شامل ہونا چاہیے۔
ایک امریکی ویب سائٹ کو دیے گئے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر ایران کی قیادت امریکا کو نظر انداز کرتے ہوئے نیا رہنما مقرر کرنے کی کوشش کرتی ہے تو یہ اقدام بے سود ثابت ہوگا۔
ان کے مطابق خطے کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے اس اہم فیصلے میں عالمی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی اگلی قیادت کے لیے موزوں نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کسی ایسے شخص کو قبول نہیں کرے گا جو موجودہ پالیسیوں کو ہی آگے بڑھائے۔
امریکی صدر کے مطابق ایران کو ایسے رہنما کی ضرورت ہے جو ملک میں استحکام اور ہم آہنگی پیدا کرے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جس طرح بعض دیگر ممالک میں قیادت کے معاملات میں بین الاقوامی کردار سامنے آیا، اسی طرح ایران کے معاملے میں بھی انہیں اس عمل کا حصہ بننا چاہیے۔
ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر نئی قیادت پرانے طرزِ عمل کو برقرار رکھتی ہے تو آئندہ چند برسوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔
