امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر تازہ حملوں کے بعد دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ متعدد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں۔
عینی شاہدین کے مطابق تہران میں ہر طرف دھوئیں کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں سرگرم ہو گئی ہیں۔
اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے میزائل لانچنگ پیڈز اور فضائی دفاعی نظام کو نشانہ بنایا۔ حملوں میں صدارتی دفتر اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی عمارت کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق حملوں کا دائرہ کار صرف دارالحکومت تک محدود نہیں رہا بلکہ اسرائیل اورا مریکا کی جانب سے ہمدان، اصفہان، شیراز، قم یزد اور صوبہ فارس میں بھی شدید بمباری کی گئی ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق گزشتہ پانچ روز کے دوران ملک بھر میں شہادتوں کی تعداد 787 ہو گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی بتائے جا رہے ہیں۔ دوسری جانب اسرائیل اور امریکا کی جانب سے جاری کارروائیوں نے خطے میں کشیدگی کو انتہائی حد تک بڑھا دیا ہے۔
ایران کا ایک بار پھر اسرائیل پر حملہ، درجنوں ڈرون اور بیلسٹک میزائل داغ دیے گئے
ایران نے ایک مرتبہ پھر اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملہ کرتے ہوئے درجنوں ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغ دیے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق ایرانی افواج کی جانب سے حملے مختلف اہداف کو نشانہ بنانے کے لیے کیے گئے، جبکہ اسرائیلی دفاعی نظام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل کی جنوبی لبنان پر شدید بمباری، شہریوں کو فوری انخلا کا حکم
اسرائیل نے جنوبی لبنان میں شدید بمباری کی جس کے نتیجے میں 6 افراد شہید اور 8 زخمی ہو گئے۔
لبنانی حکام کے مطابق اسرائیلی حملوں میں شہید شہریوں کی مجموعی تعداد 50 تک پہنچ چکی ہے جبکہ 335 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔
اسرائیل نے لبنان میں 16 دیہات اور قصبوں کے رہائشیوں کو فوری انخلاء کا حکم بھی جاری کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق جنوبی علاقوں میں فضائی حملے جاری ہیں اور سرحدی کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ایران، اسرائیل اور لبنان کے درمیان صورتحال انتہائی سنگین رخ اختیار کر چکی ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے فوری جنگ بندی کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
برطانیہ کی ریاض پر ایرانی حملوں کی مذمت، سعودی عرب سے اظہار یکجہتی
برطانیہ نے سعودی عرب پر ایرانی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں ناقابلِ قبول قرار دے دیا۔
برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب پر ایرانی حملے ناقابلِ قبول ہیں اور ایسے اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے ریاض میں امریکی سفارتخانے کو نشانہ بنانے کی بھی مذمت کی۔
وزیر خارجہ کے مطابق یہ حملے بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنانے کے مترادف ہیں اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
برطانوی حکومت نے واضح کیا کہ وہ سعودی عرب اور خطے کے دیگر شراکت داروں کے ساتھ کھڑی ہے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے گی۔
پاسدارانِ انقلاب کا دبئی میں 160 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں 160 امریکی فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، مختلف علاقوں میں ڈرون کارروائیوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب نے کہا ہے کہ کارروائی مخصوص فوجی اہداف کے خلاف کی گئی۔
ادھر خبر ایجنسیوں کے مطابق بغداد ایئرپورٹ کے قریب ایک ایرانی ڈرون مار گرایا گیا ہے۔ واقعے کے بعد سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے فضائی دفاعی نظام نے خرم آباد میں ایک اسرائیلی ڈرون کو تباہ کر دیا ہے۔
خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث دبئی سمیت مختلف شہروں میں سیکیورٹی اقدامات سخت کر دیے گئے ہیں جبکہ عالمی برادری صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
