ایران بحران پر بھارت کی پالیسی تنقید کی زد میں، روسی تیل کی دوبارہ خریداری پر غور
ایران میں پیدا ہونے والے بحران نے بھارتی حکومت اور ریاستی ریفائنرز کو ہنگامی متبادل ذرائع پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے
ایران میں بڑھتی کشیدگی کے بعد تیل کی ترسیل میں ممکنہ رکاوٹوں نے بھارت کو ایک بار پھر توانائی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کر دیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق ایران میں پیدا ہونے والے بحران نے بھارتی حکومت اور ریاستی ریفائنرز کو ہنگامی متبادل ذرائع پر غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یوکرین پر روسی حملے کے بعد سے بھارت، روس کے سمندری خام تیل کا سب سے بڑا خریدار رہا ہے۔
بلومبرگ کے مطابق امریکی دباؤ اور تجارتی معاہدوں کے تناظر میں نئی دہلی نے روسی تیل کی خریداری محدود کرنے کا عندیہ دیا تھا، تاہم ایران میں کشیدگی اور خطے میں عدم استحکام کے بعد دوبارہ روسی سپلائی پر غور شروع کر دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارتی چینل پر پاکستان زندہ باد کے نعرے چل گئے
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایران میں اسرائیلی کارروائیوں کے بعد بھارتی ریفائنرز نے متبادل کے طور پر سعودی آرامکو سے اضافی خام تیل کی فراہمی کی درخواست بھی کی ہے تاکہ سپلائی میں ممکنہ خلل سے بچا جا سکے۔
عالمی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال بھارت کی خارجہ اور توانائی پالیسی میں تضاد کو ظاہر کرتی ہے۔ ایک جانب نئی دہلی ایران کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی بات کرتا ہے، جبکہ دوسری جانب بدلتی جغرافیائی سیاست کے مطابق فوری مفادات کو ترجیح دیتا دکھائی دیتا ہے۔
سفارتی حلقوں کے مطابق بھارت بیک وقت امریکا اور روس کے ساتھ توازن قائم رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہے، تاہم موجودہ بحران نے اس حکمتِ عملی کو تنقید کی زد میں لا کھڑا کیا ہے۔
ماہرین کے مطابق توانائی تحفظ کے نام پر اختیار کی گئی یہ حکمت عملی بھارت کی خارجہ پالیسی کو غیر مستقل اور موقع پرستانہ قرار دینے والوں کے مؤقف کو تقویت دے رہی ہے۔
