ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو فوری مذاکرات کی وارننگ دے دی
ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کردیا اور اب ایران ڈیل کے لیے بھیک مانگ رہا ہے، امریکی صدر
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کابینہ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ڈیل کا وقت گزر رہا ہے اور ایران کو دیر ہونے سے پہلے سنجیدہ ہونا ہوگا۔
ایران کے خلاف جنگ میں بڑی فوجی کامیابیوں کا دعویٰ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کردیا گیا ہے اور اب ایران ڈیل کے لیے بھیک مانگ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے بتایا کہ ایران کے 90 فیصد میزائل سسٹم کو تباہ کردیا گیا ہے۔ امریکی افواج نے ایرانی ڈرونز، نیوی اور فضائیہ کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔ ریڈار سسٹم بھی تباہ کردیے گئے ہیں جب کہ ڈرونز اور میزائل بنانے والی متعدد فیکٹریاں بھی نشانہ بنائی گئی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا ایران پر حملہ نہ کرتا تو ایران صرف دو ہفتوں میں ایٹمی ہتھیار بنا لیتا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بی 2 بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ماضی کے معاہدے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اوباما نے ایران کے ساتھ بدترین ڈیل کی تھی۔ ایران اب امریکا کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کی منتیں کر رہا ہے اور ڈیل کے لیے بھیک مانگ رہا ہے۔
تاہم انہوں نے کہا کہ نہیں معلوم کہ آیا وہ ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کریں گے یا نہیں۔ انہوں نے خود کو ’’زبردست مذاکرات کار‘‘ قرار دیا۔
ٹرمپ نے نیٹو ممالک پر بھی شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ نیٹو سے بہت مایوس ہیں کیونکہ ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو ممالک نے کوئی مدد نہیں کی جب کہ انہوں نے نیٹو کو ’’کاغذی شیر‘‘ قرار دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک نے غیر جانبداری کا انتخاب کیا پھر بھی ایران نے ان پر بمباری کی۔ جنگ سے پہلے ایران نے مشرق وسطیٰ پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنا رکھا تھا۔ ایران کے خلاف جو کچھ کیا وہ 47 سال پہلے کر لینا چاہیے تھا جب کہ ایرانی بہت اچھے مذاکرات کار ہیں۔
