اسرائیل اور امریکا کے مشترکہ حملے میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے ہیں۔
ایران کے سرکاری میڈیا نے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کی امریکی و اسرائیلی حملے میں شہادت کی تصدیق کردی، بیٹا اور بہو بھی شہید ہو گئے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں سپریم لیڈر کے قریبی مشیر علی شمخانی بھی شہید ہوئے ہیں جبکہ پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر محمد پاکپور کی شہادت کی بھی تصدیق کی گئی ہے اور کوآرڈینیٹر محمد شیرازی کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ وہ مبینہ امریکی حملے میں مارے گئے۔
ایرانی میڈیا نے ایران کے آرمی چیف عبد الرحیم موسوی کی شہادت کی بھی تصدیق کردی ہے جبکہ وزیر دفاع عزیز ناصر زادہ بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوگئے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملک میں 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے جبکہ 7 روز تک سرکاری تعطیلات رہیں گی جبکہ اس دوران قومی پرچم سرنگوں رہے گا اور مختلف شہروں میں تعزیتی اجتماعات منعقد کیے جائیں گے۔
ایرانی دارالحکومت تہران میں شہری بڑی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے اور انقلاب اسکوائر پر تعزیتی اجتماع کیا گیا جبکہ مشہد میں امام رضا کے روضے پر سوگ کے طور پر سیاہ پرچم لہرا دیا گیا ہے۔
ایران کا سپریم لیڈر کی موت کا بدلہ لینے کا اعلان
ایرانی فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے بیانات میں کہا ہے کہ اس واقعے کا بدلہ لیا جائے گا اور ملک کے خلاف جارحیت کرنے والوں کو سخت جواب دیا جائے گا۔
سپریم لیڈر کی شہادت کے بعد عبوری کونسل ایران کی قیادت کرے گی،کونسل صدر، عدلیہ کے سربراہ، شوری نگہبان کے ایک رکن پر مشتمل ہوگی۔
ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای آخری تقریر
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنی آخری تقریرمیں کہا تھا کہ اے پروردگار، ہمیں شہداء کے ساتھ ملا دے اور ہمیں شہادت نصیب فرما۔
علم ہے خامنہ ای کے بعد کون احکامات جاری کررہا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران میں مؤثر طور پر احکامات کون جاری کر رہا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس شخصیت سے آگاہ ہوں جو اس وقت ایران میں عملی طور پر قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
اس سوال پر کہ کیا وہ اس شخصیت کو ایران کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میرے خیال میں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں۔
ایران نے 27 امریکی فوجی اڈوں پر نیا حملہ کردیا
ایران کی مسلح افواج کے ذیلی ادارے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود 27 امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر بمباری کے جواب میں جوابی کارروائیوں کا چھٹا مرحلہ شروع کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل اور خطے میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر وسیع پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے۔
رپورٹس کے مطابق حملوں میں اسرائیل کے تل نوف ایئربیس، تل ابیب میں قائم اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر ہاکریا اور اسی شہر میں واقع ایک دفاعی صنعتی کمپلیکس کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوحہ اور دبئی میں دھماکوں کی آوازیں
عرب میڈیا کے مطابق دوحہ اور دبئی میں بھی متعدد دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، تاہم ان کی نوعیت اور ہدف کے بارے میں واضح تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
ایرانی فورسز نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ مزید سخت اور مختلف نوعیت کی کارروائیاں کی جا سکتی ہیں اور جوابی اقدامات جاری رہیں گے۔
تاہم امریکا یا اسرائیل کی جانب سے ان دعوؤں کے حوالے سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق یا ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
میناب میں اسکول پر حملے میں شہادتوں کی تعداد 148 ہو گئی
ایرانی شہر میناب میں لڑکیوں کے اسکول پر امریکی اسرائیلی حملے میں شہادتوں کی تعداد 148 ہو گئی جبکہ 95 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق امریکی اسرائیلی اسکول حملے میں 85 طالبات شہید ہوئیں۔
تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت پر میزائل حملہ
عرب میڈیا کے مطابق تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت پر ایران نے میزائل حملہ کیا ہے۔
عرب میڈیا نے بتایا ہے کہ تل ابیب میں میزائل حملے کے بعد متعدد عمارتوں میں آگ بھڑک اُٹھی، حملے میں 20 افراد زخمی ہوگئے جبکہ گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔
امریکی صدر کی ایران کو مزید حملوں سے باز رہنے کی وارننگ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو کسی بھی ممکنہ جوابی کارروائی کی صورت میں سخت انتباہ جاری کیا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کو مزید حملوں سے باز رہنے کی وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ایران نے کہا ہے کہ وہ آج بہت سخت حملہ کرے گا، ایران کو سخت حملہ نہیں کرنا چاہیے، حملہ ہوا ایسی طاقت سے جواب دیں گے جیسا پہلے کھبی نہیں دیا۔
