مجھے علم ہے خامنہ ای کے بعد کون احکامات جاری کررہا ہے، ٹرمپ کا دعویٰ
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے دفتر میں نشانہ بنایا گیا
امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے معلوم ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد ایران میں مؤثر طور پر احکامات کون جاری کر رہا ہے۔
ایک امریکی ٹی وی کو ٹیلیفونک انٹرویو دیتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس شخصیت سے آگاہ ہوں جو اس وقت ایران میں عملی طور پر قیادت سنبھالے ہوئے ہیں، تاہم انہوں نے نام ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
اس سوال پر کہ کیا وہ اس شخصیت کو ایران کی قیادت کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ میرے خیال میں کچھ اچھے امیدوار موجود ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای شہید ہوگئے۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے دفتر میں نشانہ بنایا گیا۔ حکومت کی جانب سے ملک بھر میں 7 روزہ عام تعطیل اور 40 روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی مسلح افواج اور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے بیانات میں کہا ہے کہ وہ اپنے رہبر کے مشن کو جاری رکھیں گے اور ملک پر حملہ کرنے والوں سے سخت اور فیصلہ کن انتقام لیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق حملوں میں خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی اور میجر جنرل محمد پاکپور بھی شہید ہوئے۔ بعض رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا کہ اس سے قبل خامنہ ای کے اہلِ خانہ میں شامل بیٹی، نواسی اور داماد بھی حملوں میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔