امریکی سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ، صدر ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات کالعدم قرار
یہ قانون صدر کو عالمی سطح پر محصولات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا، عدالت
امریکی سپریم کورٹ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی تجارتی ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دے دیا ہے، جسے ان کی اقتصادی پالیسی پر ایک سنگین دھچکا سمجھا جا رہا ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ صدر نے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ کے تحت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور عالمی تجارت پر محصولات لگانے کا اختیار قانونی دائرے سے باہر تھا۔
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ یہ قانون ہنگامی معاشی حالات میں بعض اختیارات دیتا ہے، لیکن صدر کو عالمی سطح پر محصولات عائد کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف ٹرمپ کے گزشتہ اقدامات بلکہ رواں سال کیے گئے تجارتی معاہدوں پر بھی پڑ سکتے ہیں، اور اس نے نئی قانونی حد متعین کردی کہ صدر کون سی اقتصادی پالیسیاں کانگریس کی منظوری کے بغیر نافذ کر سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ سابق امریکی صدر نے پاکستان سمیت کئی ممالک پر ٹیرف عائد کیے تھے، جو اس عدالتی فیصلے کے بعد غیر مؤثر قرار پائے ہیں۔
