ارشد ندیم اکیڈمی سے بایومکینکس لیب تک، 20 سال بعد پاکستان اسپورٹس میں تاریخی پیش رفت

ڈی جی پاکستان اسپورٹس بورڈ یاسر پیرزادہ کی قیادت میں پاکستان اسپورٹس بورڈ (پی ایس بی) میں بڑے پیمانے پر اصلاحات متعارف کرا دی گئیں، جبکہ دو دہائیوں بعد ادارے کی جامع سالانہ رپورٹ 2024-25 بھی جاری کر دی گئی ہے۔

پی ایس بی کو روایتی نظام سے نکال کر کارکردگی اور شفافیت پر مبنی جدید ادارہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق سات سال کے وقفے کے بعد قائداعظم انٹرصوبائی گیمز کا کامیاب انعقاد کیا گیا، جس میں 2 ہزار 725 ایتھلیٹس نے شرکت کی۔

ادارے کی بڑی کامیابیوں میں اولمپئن ارشد ندیم کے نام سے ہائی پرفارمنس اکیڈمی اور پاکستان کی پہلی بایومکینکس لیبارٹری کا قیام بھی شامل ہے، جس سے کھلاڑیوں کو عالمی معیار کی سہولیات میسر آئیں گی۔

پی ایس بی کی خود پیدا کردہ آمدن میں 90 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ اعزازی ممبرشپس پر زیرو ٹالرنس پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسپورٹس الیکشن ریگولیشنز پاکستان (SERP) سمیت اہم گورننس اصلاحات بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔

شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے کیو آر کوڈڈ این او سیز، بائیومیٹرک حاضری اور میرٹ پر مبنی سلیکشن سسٹم نافذ کیا گیا ہے، جبکہ فیڈریشنز کے لیے شفاف گرانٹ میکنزم بھی متعارف کرا دیا گیا ہے۔

پاکستان اینٹی ڈوپنگ بورڈ کو مزید مضبوط بنایا گیا ہے اور ڈوپ ٹیسٹنگ و آگاہی پروگرامز میں توسیع کی گئی ہے۔ 847 ایتھلیٹس کے لیے تربیتی کیمپس منعقد کیے گئے، جبکہ خصوصی ڈائٹ الاؤنس 2 ہزار روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے یومیہ کر دیا گیا ہے۔

ڈیجیٹل گورننس کے تحت ای آفس، پری آڈٹ سسٹم اور پی پی آر اے کے ای پی اے ڈی ایس پلیٹ فارم کے ذریعے شفاف اور مؤثر نظام کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے۔

پاکستان اسپورٹس بورڈ کا کہنا ہے کہ یہ اصلاحات ملک میں کھیلوں کے فروغ اور عالمی سطح پر نمایاں کارکردگی کے لیے سنگِ میل ثابت ہوں گی۔

Related posts

نیپرا عوام دشمنی پر اتر آئی؛ صنعتی بجلی سستی، گھریلو صارفین پر بوجھ ڈال دیا گیا

پی ایس ایل 11؛ سیالکوٹ اسٹالینز نے کھلاڑیوں کی خریداری مکمل کرلی

سعودی لیگ میں رونالڈو کی ہڑتال کامیاب، النصر کو جھکنا پڑ گیا