عالمی میڈیا بھارت کے اسٹریٹجک ستون ہونے کے دعوے کی دھجیاں بکھیرنے لگا
پاک-بھارت جنگ بندی بھارت کی درخواست پر امریکی مداخلت کے ذریعے ممکن ہوئی
امریکی جریدے فارن افیئرز نے بھارت کے عالمی سطح پر اپنے شائننگ انڈیا ہونے کے دعووں کا تفصیلی تجزیہ پیش کیا ہے۔
جریدے نے لکھا ہے کہ مئی 2025 کی پاک-بھارت جنگ کے بعد بھارت اور امریکا کے تعلقات اپنی تاریخ کے بدترین مرحلے پر پہنچ گئے ہیں۔
فارن افیئرز کے مطابق، پاکستان نے صدر ٹرمپ کی جنگ بندی میں تعمیری کردار ادا کیا اور اسے سراہا، جبکہ بھارت نے اسے مسترد کیا۔
امریکی صدر کی پاکستان کے ساتھ گرم جوشی اور بھارت کے ساتھ تجارتی معاہدے پر دستخط سے انکار اور بھارتی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کرنا، بھارت کے لیے شدید سفارتی سبکی کا باعث بن گیا ہے۔
مزید پڑھیں: بھارت میں کھیل نہیں، شناخت کی بنیاد پر فیصلہ؛ امریکی کھلاڑیوں کے ویزے مسترد
جریدے نے کہا ہے کہ ان حرکات کی وجہ سے بھارت امریکا کے لیے متزلزل اسٹریٹجک شراکت دار بن گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارت معمولی سفارتی اختلافات پر امریکا سے دور ہو سکتا ہے، تو وہ ایک مستحکم اور پراعتماد شراکت دار نہیں ہے۔
بھارت کی پچیس سالہ تعلقات کی تاریخ اور انا کے باعث یہ شراکت داری متزلزل ہو گئی، جو ادارہ جاتی کمزوری کی نشاندہی کرتی ہے۔
تجزیہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاک-بھارت جنگ بندی بھارت کی درخواست پر امریکی مداخلت کے ذریعے ممکن ہوئی، مگر بھارت داخلی سیاسی وجوہات کے باعث اسے قبول نہیں کرنا چاہتا۔
ماہرین نے واضح کیا کہ مسئلہ امریکی ثالثی نہیں بلکہ بیانیے پر کنٹرول کی بھارتی خواہش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بھارت ایک طرف امریکا کی غیر مشروط حمایت کا خواہاں ہے تاکہ چین کے مقابلے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرے، مگر دوسری طرف امریکی ثالثی کو مسترد کرتا ہے، جو دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے۔
جریدے کےمطابق بھارت کا داخلی عدم تحفظ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ وہ ملک نہیں جو اپنے آپ کو ثابت کرنا چاہتا ہے۔
ماہرین نے زور دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار استحکام دوغلی سیاست سے نہیں بلکہ برابری اور شفافیت پر مبنی سفارتی تعلقات سے ہی ممکن ہے۔
