پوٹاشیم سے بھرپور غذا کس مرض میں بہتری لاسکتی ہے؟
سوڈیم اور پوٹاشیم دونوں ہی جسم کے لیے اہم الیکٹرولائٹس ہیں
پوٹاشیم کو جسم کے لیے ایک انتہائی منرل تصور کیا جاتا ہے، جو عضلاتی سکڑاﺅ، سیال کو کنٹرول کرنے، زیادہ نمک کے منفی اثرات سے بھی بچاتا کے ساتھ بلڈ پریشر کو توازن میں رکھنے میں مدد دیتا ہے۔
ماہرین بلڈ پریشرکو توازن میں رکھنے کے لیے غذا میں سوڈیم کو کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، تاہم ایک نئی تحقیق کے مطابق نمک کی مقدار کم کرنے کے بجائے اگر پوٹاشیم کی مقدارکو بڑھادیا جائے زیادہ مؤثر ثابت ہوسکتا ہے۔
دنیا کی تقریباً 30 فیصد آبادی ہائی بلڈ پریشرکے مرض میں مبتلا ہے جو کئی موذی امراض کا سبب ہے۔
اس ضمن میں امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن نے بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لیے سوڈیم کی مقدار کم کرنے پر زور دیا ہے اور اسے بلڈ پریشر کا فوری اور آسان حل کے طور پر پیش کیا ہے۔
تاہم، کینیڈا کی یونیورسٹی آف واٹرلو کی نئی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پوٹاشیم کی مقدار بڑھانے سے بلڈ پریشر پر سوڈیم کو کم کرنے سے زیادہ اثر پڑ سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: صرف ایک سادہ غذائی تبدیلی، عمر رسیدہ افراد کے لیے چربی کم کرنے میں موثر ثابت
یہ بات تو سب ہی جانتے ہیں کہ سوڈیم اور پوٹاشیم دونوں ہی جسم کے لیے اہم الیکٹرولائٹس ہیں جو بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ سوڈیم جسم میں پانی سطح کو کنٹرول کرنے میں مدد دیتا ہے، اگر جسم میں سوڈیم کی مقدار زیادہ ہو، تو جسم اسی حساب سے پانی کو جسم میں روک لیتا ہے، اس طرح جسم میں خون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جس سے دل کو زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے اور یہی عمل بلڈ پریشرکا بڑھاتا ہے۔
تاہم پوٹاشیم نہ صرف خون کی شریانوں کی اندرونی سطح کو آرام دے کر دل کی فعالیت کوبہتر بناتا ہے، بلکہ یہ اعصاب اور پٹھوں کو بھی پرسکون رکھتا ہے۔
پوٹاشیم گردے کی مدد سے سوڈیم کو پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج کرنے میں مدد دیتا ہے جس سے خون کی شریانوں میں سیال کی مقدار اور دباؤ کم ہوتا ہے،اس طرح بلڈ پریشر کم ہوجاتا ہے پوٹاشیم سے بھرغزا میں کیلے، بروکلی، سبز پتوں والی سبزیاں، پھلیاں، ایواکاڈو شامل ہیں۔
