خطے میں بھارت کا اثر کمزور، ہمسایہ ممالک نے نیا رخ اختیار کر لیا
بھارت کو بنگلہ دیش اور میانمار دونوں کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیوں کا سامنا ہے، ماہرین
جنوبی ایشیا میں بھارت کے اثر و رسوخ میں بتدریج کمی آ رہی ہے اور نام نہاد بالادستی کے اس کے منصوبے ناکامی سے دوچار ہو چکے ہیں۔
ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ کے مطابق، بنگلہ دیش اور میانمار اب بھارتی حلقۂ اثر سے نکل کر پاکستان اور چین کے قریب ہو گئے ہیں، جس سے بھارت کی سفارتی تنہائی مزید بڑھ گئی ہے۔
سابق سفارتکار کے پی فے بین کے مطابق، بھارت ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے میں مسلسل ناکام رہا ہے۔
بین الاقوامی تعلقات کے ماہر سری ردھا دتہ نے کہا کہ بھارت کو بنگلہ دیش اور میانمار دونوں کے ساتھ تعلقات میں پیچیدگیوں کا سامنا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بنگلہ دیش مستقبل میں اپنے دفاعی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے پاکستان کی جانب مزید جھکاؤ اختیار کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان کی سیاسی، عسکری اور معاشی کامیابیاں اسے عالمی سطح پر ایک مؤثر اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر نمایاں کر رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق، خطہ میں مؤثر سفارتی پالیسیوں کے باعث امن و استحکام کے لیے پاکستان اہم ترین کردار ادا کر رہا ہے۔
مودی حکومت کی انتہاپسند پالیسیوں اور نفرت پر مبنی ہندوتوا نظریے نے بھارت کو علاقائی قیادت کے خواب میں تنہا کر دیا ہے۔
معرکہ حق میں ذلت آمیز شکست اور مسلسل سفارتی ناکامیوں کے باعث بھارت کا خطے میں اجارہ داری کا ایجنڈا زمیں بوس ہو چکا ہے اور یہ حکومت علاقائی سطح پر شدید چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے۔
